النية کے معنی لغت میں ارادہ (کے ہوتے ہیں) یعنی دل کا عزم۔ ( دیکھئے ٫ مصباح اللغات ٫ صفحہ : ٩٢٣ )
نبی اکرم ۖ نے فرمایا : انما الاعمال بالنیات وانما لکل امریء مانوی ۔۔۔۔۔۔۔۔(صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ١٥٠ ٫ حدیث : ١ ٫ باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اﷲ ۖ ۔)
یعنی تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔۔۔۔۔۔ الخ
http://systemoflife.com/backup/plugins/editors/jce/tiny_mce/plugins/article/img/readmore.gif); ">
اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہر عمل سے پہلے نیت شرط ہے اور نماز بھی ایک بہترین عمل ہے لہٰذ ا اس سے پہلے بھی نیت ضروری ہے۔جس طرح دیگر اعمال کی ادائیگی کرتے وقت ہم زبان سے نیت نہیں کرتے اسی طرح نماز کے لئے بھی زبان سے نیت نہیں کی جائیگی بعض حضرات زبان سے نیت کی ادائیگی کو مستحب کہتے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے حافظ ابن القیم فرماتے ہیں کہ :
آنحضرت ۖ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے اﷲ اکبر فرماتے اس سے پہلے کچھ نہ کہتے تھے ٫ حتٰی کہ زبان سے نیت بھی نہ کرتے ٫ نہ یہ فرماتے کہ میں چار رکعت نماز کی نیت کعبہ کی طرف رخ کرکے امام یا مقتدی بن کر کرتا ہوں نہ ادا اور قضا کا لفظ استعمال فرماتے٫ نہ وقت کا نام لیتے یہ ساری باتیں بدعت ہیں ۔اس سلسلے میں آپ ۖ سے کچھ بھی مروی نہیں ہے ۔نہ احادیث صحیحہ سے نہ ضعیف حدیثوں سے ٫ نہ مسند سے ٫ نہ مرسل سے ٫ نہ کسی صحابی سے ٫ تابعین میں سے بھی کسی نے ان باتوں کو پسند نہیں کیاہے ٫ نہ آئمہ اربعہ نے ۔ ( دیکھئے ٫ زادالمعاد (مترجم) ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٢٠١ )
حدثنا علی بن محمد الطنافسی ثنا ابو اسامة حدثنی عبدالحمید بن جعفرثنا محمد بن عمربن عطاء قال سمعت ابا حمید الساعدی یقول کان رسول اﷲ ۖ اذا قام الی الصلوة استقبل القبلة ورفع یدیہ وقال اﷲ اکبر۔۔۔۔۔ ( سنن ابن ما جہ ٫ جلد: ١ ٫ صفحہ:٤١٠ ٫ حدیث :٨٠٣ ٫ باب: افتتاح الصلوة)
ابو حمید ساعدی رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ۖجب نماز کو اٹھتے قبلے کی طرف منہ کرتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے اور فرماتے اﷲاکبر............
اس حدیث سے ہمیں مندجہ ذیل باتوں کا علم ہوتا ہے:
بعض حضرات قبلہ رخ ہو نے میں پیروںکا خیال نہیں کرتے حالانکہ حدیث ہیکہ:
حدثنا نصر بن علی ثنا ابواحمد عن العلاء بن صالح عن زرعة بن عبدالرحمن قال سمعت ابن
الزبیر یقول صف القدمین ووضع الید علی الیدمن السنة۔(ابوداؤد جلد: ١ ٫ صفحہ :٣٢٥ ٫ حدیث: ٧٤٩ ٫ باب:
وضع الیمنی علی الیسری فی الصلوة۔)
زرعہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں نے عبداﷲ بن زبیررضی اﷲعنہ سے سنا کہتے برابر رکھنا قدموں کا اور ہاتھ کو ہاتھ
پر رکھنا سنت ہے۔ (معلوم ہوا کہ قدم بھی قبلہ رخ ہونے چاہئے)
١ نماز کے لئے جب کھڑے ہوں توقبلہ رخ ہو نا چاہئے ۔ ٢ تکبیر تحریمہ کے الفاظ اﷲاکبر ہیں۔ ٣ قبلہ رخ ہونے کے بعددونوں ہاتھ اٹھانا پھر اﷲاکبر کے الفاظ سے تکبیرکہنا۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے رو ا یت ہے کہ رسول اﷲ ۖ نے فرما یا نماز کی چابی طہارت ہے اور نما ز کی تکبیر تحریم اور نماز کی تحلیل سلام ہے۔
(١) نماز بغیر وضو کے نہیں ہوتی ۔
(٢) نماز کی پہلی تکبیر ٫ تکبیر تحریمہ ہے۔
(٣) نماز کی تحلیل سلام ہے۔
یعنی تکبیر کہنے کے بعد دنیاوی امور حرام ہو جاتے ہیںاور سلام پھیرنے کے بعد حلال ہو جاتے ہیں۔(واﷲاعلم)
نبی اکرم ۖ نے حکم دیا کہ٫ اذا قمت الی الصلاة فکبر۔۔۔۔۔الخ(صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٥)
(جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو۔۔۔۔الخ)
نماز میں تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے یا ہاتھوں کو اٹھانے کے بعد تکبیر کہیں ٫ نماز میں ہاتھوں کو اٹھانے کے بعد تکبیر کہنے کی روایت صفحہ نمبر : ٢١ پر موجود ہے کہ: سمعت ابا حمید الساعدی یقول کان رسول اﷲ ۖ اذا قام الی الصلوة استقبل القبلة ورفع یدیہ وقال اﷲ اکبر۔۔۔۔۔
ابو حمید ساعدی رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ۖجب نماز کو اٹھتے قبلے کی طرف منہ کرتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے اور فرماتے اﷲاکبر.........
حدثنا اسحاق الواسطی قال حدثنا خالد بن عبداﷲ عن خالد بن ابی قلابةا نہ رای مالک بن حویرث اذا صلی کبر ورفع یدیہ واذا ارادان یرکع رفع یدیہ واذا رفع راسہ من الرکوع رفع یدیہ و حدث ان رسول اﷲ ۖ
صنع ھکذا۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٦٩ ٦٧٠ ٫ حدیث : ٧٣٧ ٫ باب رفع الیدین اذا کبر ٫ واذا رکع واذا رفع)
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مالک بن حویرث رضی اﷲعنہ کو دیکھا کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر تحریمہ کے ساتھ
رفع یدین کر تے ٫ پھر جب رکوع میں جاتے اس وقت بھی رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی کرتے اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲ ۖ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
معلوم ہوا کہ تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے بھی رفع یدین سنت ہے اور اگر ہاتھ اٹھانے کے بعد تکبیر کہے تو یہ بھی سنت ہے۔
تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے ہاتھ کندھوں تک ٫کانوں تک یا کندھوں سے کچھ کم اٹھانا سنت ہے
سالم بن عبداﷲ سے روایت ہے کہ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ۖنماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے تک اٹھا تے اسی طرح جب رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے اور جب اپنا سر مبارک رکوع سے اٹھاتے رفع یدین کرتے اور فرماتے سمع اﷲلمن حمدہ ربنا ولک الحمد٫ سجدہ جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ۖنے نماز شروع کرتے وقت اپنے دونو ںہاتھ اٹھائے ہمام کا بیان ہے کہ رسول اکرم ﷺدونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے پھر چادر اوڑھ لی اس کے بعد سیدھا ہاتھ الٹے ہاتھ پر رکھا ۔پھر آپ ﷺنے چادر میں سے ہاتھ باہر نکال کر دونوں کندھوں تک اٹھا کے تکبیر پڑھی اس کے بعد رکوع میں گئے اور بہالت قیام سمع اﷲلمن حمدہ پڑھ کر رفع یدین کیا اور پھر آپ ﷺنے دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا ۔
٣۔ حدثنا عثمان بن ابی شیبة نا شریک عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن وائل بن حجر قال رایت رسول اﷲﷺحین افتتح الصلوة رفع یدیہ حیال اذنیہ قال ثم اتیتھم قرایتھم یرفعون ایدھم الٰی صدورھم فی افتتاح الصلوة وعلیھم برانس واکسےة۔ (ابوداؤد ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٣١٥ ٫ باب رفع الیدین۔)
وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺکو دیکھا آپ ﷺ نے جب نماز شروع کی دونوں ہاتھ اٹھائے کانوں تک وائل نے کہا پھر جو میں آیا میں نے لوگوں کو دیکھا اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے سینے تک نماز شروع کرنے کے وقت اور وہ جبہاور کمبل اوڑھے ہوئے تھے ۔
ان تینوں روایات سے معلوم ہوا کہ رفع یدین سینہ ٫ کان اور کندھے تک کرنا سنت ہے اور اس میں کوئی تعارض بھی نہیں ہے۔ کیونکہ رفع یدین دو رکعت میں پانچ مرتبہ ہوتا ہے ٫ چار رکعت میں دس مرتبہ اور تین رکعت میں آٹھ مرتبہ لہٰذا اتنی تعداد میں ہاتھ اٹھانے میں ہاتھ اوپر نیچے ہو تے رہتے ہیں لہٰذا ان سب پر عمل ہوتا ہے۔
٢
۔ حدثنا عبداﷲ حدثنی ابی ٫حدثنا عفان قال حدثنا ھمام حدثنا محمد بن حجادة قال حدثنی عبدالجبار بن وائل عن علقمة بن وائل ومولی لھم انھما حدثاہ عن ابیہ وائل بن حجر انہ رای النبی ۖ رفع یدیہ حین دخل فی الصلاة کبر وصف ھمام حیال اذنیہ ثم التحف بثوبہ ثم وضع یدہ الیمنی علی الیسری فلما ارادان یرکع اخرج یدیہ من الثوب ثم رفعھما فکبر فرکع فلما قال سمع اﷲلمن حمدہ رفع یدیہ فلما سجد سجد بین کفیہ۔( مسند احمد ٫ جلد : ٤ ٫ صفحہ : ٣٩٠ ٫ حدیث : ١٨٨٩٠ ) ( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ٢٨ ٫ باب : وضع الیمنی علی الیسری بعد تکبیرة الاحرام تحت صدرہ فوق سرتہ و وضعھما فی السجود علی الارض حذو منکبیہ ) ١۔ حدثنا عبداﷲبن مسلمة عن مالک عن ابن شھا ب عن سالم بن عبداﷲ عن ابیہ ان رسول اﷲ ۖ کا ن یرفع یدیہ حذو منکبیہ اذاافتتح الصلاة واذا کبر للرکوع واذا رفع راسہ من الرکوع رفعھما کذالک ایضا وقال سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد وکان لا یفعل ذلک فی السجود۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٦٩ ٫ حدیث : ٧٣٥ ٫ باب رفع الیدین فی التکبیر الاولی مع الافتتاح سوائ۔)
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺجب نماز کے لئے تکبیر کہتے تھے تو اپنی انگلیوں کو پھیلادیتے تھے۔
(اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہاتھ اٹھاتے وقت انگلیوں کھول دیں موڑیں نہیں۔)
اخبرنا ابوطاھر نا ابوبکر نا یحیی بن حکیم ٫ نا ابوعامر حدثنا ابن ابی ذئب ٫ عن سعید بن سمعان قال دخل علینا ابوھریرة مسجد بنی زریق قال ثلاث کان رسول اﷲﷺیفعل بھن ٫ترکھن الناس کان اذا قام الی الصلاة قال ھکذا واشار ابوعامر بیدہ ولم یفرج بین اصابعہ ولم یضمھا ۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ ( صحیح ابن خزیمہ ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٢٦٣ ٫ حدیث : ٤٥٩ ٫ باب نشرا لاصابع عند رفع الیدین فی الصلوة۔)
سعید بن سمعان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اﷲ عنہہمارے پاس مسجد بنی زریق میں آئے فرمایا کہ تین (باتیں ایسی) ہیں کہ رسول اﷲ ﷺانہیں کرتے تھے لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا جب آپ ﷺنماز کے لئے کھڑے ہوتے فرمایا اس طرح اور اشارہ کیا ابوعامر نے (رفع الیدین )کرکے ہاتھوں سے کہ نہ انگلیوں کوپوری طرح کھلی رکھتے اورنہ ہی بندکرتے۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔
(اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہاتھ اٹھاتے وقت انگلیاںکشادہ ہونی چاہئیں ۔)
سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی (ذراعہ) کلائی پر رکھیں۔
وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ۖنے نماز شروع کرتے وقت اپنے دونو ںہاتھ اٹھائے ہمام کا بیان ہے کہ رسول اکرم ﷺدونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے پھر چادر اوڑھ لی اس کے بعد سیدھا ہاتھ الٹے ہاتھ پر رکھا ۔۔۔۔۔۔۔الخ(نوٹ : یہ حدیث وہی ہے جو ہم صفحہ نمبر ٤ پر دیکھ کر آئیں ہیں۔)
وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺجب بھی نماز میں کھڑے ہوتے تو دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑتے۔کتاب الصلوة ٥ نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں
١۔ عن وائل بن حجر قال صلیت مع النبیﷺفوضع یدہ الیمنی علی یدہ الیسری علی صدرہ۔ (بلوغ المرام ٫ جلد :١ ٫ صفحہ : ١٩١ ٫حدیث : ٢١٧۔)
حضرت وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺکے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺنے اپنے دائیں ہاتھ
کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پرباندھ لئے۔
حضرت ھلب رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا کے ختم پر دائیں بائیں سلام پھیرتے اور نماز میں سینے پرہاتھ رکھتے تھے۔ (ان دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی ہاتھ سینے پر رکھے۔)
٢۔ ۔۔۔۔۔۔۔انہ رای النبیﷺرفع یدیہ حین دخل فی الصلاة کبر وصف ھمام حیال اذنیہ ثم التحف بثوبہ ثم وضع یدہ الیمنی علی الیسری فلما ارادان یرکع اخرج یدیہ من الثوب ثم رفعھما فکبر فرکع فلما قال سمع اﷲلمن حمدہ رفع یدیہ فلما سجد سجد بین کفیہ۔( مسند احمد ٫ جلد : ٤ ٫ صفحہ : ٣٩٠ ٫ حدیث : ١٨٨٩٠ ) (مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ٢٨ ٫ باب : وضع الیمنی علی الیسری بعد تکبیرة الاحرام تحت صدرہ فوق سرتہ و وضعھما فی السجود علی الارض حذو منکبیہ )
٣۔ اخبرنا سوید بن نصر قال انبانا عبداﷲ عن موسی بن عمیر العنبری وقیس بن سلیم العنبری قال حدثنا علقمة بن وائل عن ابیہ قال رایت رسول اﷲﷺاذا کان قائم فی الصلوة قبض بیمینہ علی شمالہ۔ (نسائی ٫ جلد :١ ٫ صفحہ : ٣٣٣ ٫حدیث : ٨٩٠ ٫ باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوة۔ ) ٢۔ حدثنا عبداﷲ حدثنی ابی یحیی بن سعید عن سفیان حدثنی سماک عن قبیصة بن ھلب عن ابیہ قال : رایت النبیﷺینصرف عن یمینہ وعن یسارہ ٫ ورایتہ قال : یضع ھذہ علی صدرہ ٫ وصف یحیی : الیمنی علی الیسری فوق المفصل۔ ( مسند احمد ٫ جلد : ٥ ٫ صفحہ : ٢٦٨ ٫
حدیث : ٢٢٠٢٦۔)
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اﷲ ۖتکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے۔ابو ذرعہ نے کہامیںسمجھتا ہوں ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے یوں کہا یا رسول اﷲ ﷺمیرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں آپ ﷺاس تکبیر اور قرأت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ کیا پڑھتے ہیں ؟آپ ﷺنے فرمایا میں پڑھتا ہوں ( اللّٰہم باعد بینی و بین خطایا کماباعدت بین المشرق والمغرب اللّٰہم نقنی من الخطایا کمی ینقی الثوب الابیض من الدنس اللّٰھم اغسل خطایا بالماء والثلج والبرد )
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبیر اور قرأت کے درمیان سکتہ ہے (جس میں یہ مندرجہ بالا دعا پڑھنی ہے۔)اور اگر مزید نماز لمبی کرنی ہو تومندرجہ ذیل حدیث میں جو دعا منقول ہے اس کو بھی پڑ ھ لیں وگر نہ جس کو چاہے اختیار کرلیں دونوں ہی دعائیں ہیں اور سنت سے ثابت ہیں۔
٢۔ حدثنا ابوبکر بن اب شیبة ثنا زید بن الحباب حدثنی جعفر بن سلیمان الضبعی حدثنی علی الرفاعی عن اب المتوکل عن اب سعید الخدری قال کان رسول اﷲﷺیستفتح صلا تہ یقول (سبحانک اللّٰھم وبحمدک وتبارک السمک وتعالی جدک ولا الہ غیرک)( ابن ماجة ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٤١١٤١٠ ٫ حدیث: ٨٠٤ ٫ باب افتتاح ا لصلوة۔)
ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺاپنی نماز شروع کرتے تھے تو فرماتے تھے (سبحانک اللّٰھم وبحمدک وتبارک السمک وتعالی جدک ولا الہ غیرک)
راقم کی رائے میں پہلی دعاء افضل ہے کیونکہ یہ حدیث (حدیث ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ ) صحیح ہے بنسبت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ
والی روایت کے٫ کیونکہ حدیث ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ کچھ کمزور ہے۔ ( ھذا ما عندی واﷲاعلم بالصواب )
(ترجمہ):اور جب تم قرآن پڑھو تو اﷲکی پناہ مانگو شیطان مردود سے۔
اب چونکہ ہمیں قرآن میںسے سورہ فاتحہ پڑھنی ہے جیسا کہ مسلم والی روایات سے معلوم ہوتا ہے:
عن عطاء قال قال ابو ھریرة فی کل الصلوة یقراء فما اسمعنا رسول اﷲﷺاسمعناکم وما اخفیمنااخفیناہ منکم فقال لہ رجل ارایت ان لم ازد علی ام القرآن فقال ان زدت علیھا فھوخیرو ان انتھیت الیھا اجرت عنک۔ ( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ٢٣ ٫ باب وجوب القرأة الفاتحة فی کل رکعة وانہ اذا لم یحسن
الفاتحة ولا امکنہ تعلمھا قرأ ما تیسر لہ غیرھا۔)
عطاء نے ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کا قول بیان کیا کہ نماز کی ہر رکعت میں قرأت کرنی چاہئے۔ رسول اکرم ﷺنے جس نماز میں ہم کو قرأت سنائی ویسی ہم نے تم کو سنادی اور جو نماز رسول اکرم ﷺنے غیر جہری پڑھی ویسی ہی ہم نے تم کو پڑھ کر بتادی جس پر ایک آدمی نے کہا کہ اگر میں سورہ فاتحہ کے علاوہ کچہ اور نہ پڑھوں تو کیا حرج ہے ؟ ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا کہ سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی مزید آیات پڑھو تو یہ تمھارے لئے بہتر ہے اور اگر سورہ فاتحہ پڑھو تو وہ بھی کافی ہے۔
اور یہی وہ قرأت ہے جس کے درمیان نبی اکرم ﷺسکوت فرماتے اور اللّٰھم باعد بینی پڑھتے جیسا کہ صفحہ نمبر٧پر گزر چکا ہے ۔ اس کی وضاحت اس حدیث سے بھی ہوجا تی ہے کہ :
حدثنا حفص بن عمر قال حدثنا شعبة عن قتادة عن انس ان النبیﷺوابابکر وعمر رضی اﷲ عنھما کانوایفتتحون الصلاة باالحمد ﷲ رب العالمین۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٨٢ ٫ حدیث : ٧٤٣ ٫ باب ما یقرأ بعد التکبیر۔)
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺاور ابوبکر اور عمررضی اﷲ عنھما نماز سورہ فاتحہ سے شروع کرتے تھے ۔
اور جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ :
حدثنا ابو بکر بن اب شیبة ثنایزید بن ھارون عن حسین المعلم عن بدیل بن میسرةعن ابالجوزاء عن عائشةکالت کان رسول اﷲﷺیفتتح القرأة با الحمد ﷲرب العالمین۔(ابن ماجة ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٤١٥ ٫ حدیث : ٨١٢ ٫ باب افتتاح القرأة۔)
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺقرأت کوشروع کرتے تھے سورہ فاتحہ سے۔
چنانچہ ٫ قرأت سے پہلے اعوذ باﷲ اور باسم اﷲپڑھنی ہے۔ اعوذ باﷲ کی دلیل صفحہ : ٨ پر گزر چکی ہے۔ اب باسم اﷲ کے متعلق سنئے :
اخبرنا محمد بن عبداﷲ عن عبدالحکم عن شعیب حدثنا لیث حدثنا خالد عن ابی ھلال عن نعیم المجمر قال صلیت ورآء اب ھریرة فقرأ بسم اﷲالرحمن الرحیم ثم قرا با م القرآن حتی اذا بلغ غیرالمغضوب علیھم ولاالضالین فقال آمین فقال الناس آمین ویقول کلما سجداﷲ اکبر واذا اقام من الجلوس فی الا ثنتین قالاﷲاکبر واذا سلم قال و الذی نفسی بیدہ انی لا شبھکم صلوةبرسول اﷲ ۖ۔ (نسائی ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٣٤٠ ٫ حدیث : ٩٠٨ ٫ باب القرأة بسم اﷲالرحمن الرحیم۔)
نعیم مجمر سے روایت ہے میں ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کے پیچھے نماز پڑ ھ رہا تھا انہوں نے بسم اﷲالرحمن الرحیم پڑھی پھر سورہ فاتحہ پڑھی جب غیرالمغضوب علیھم ولاالضالین پر پہنچے تو انہوں نے آمین کہی اور لوگوں نے بھی آمین کہی اوروہ جب سجدہ
کرتے تو اﷲاکبر کہتے اور دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اﷲ اکبر کہتے پھر جب سلام پھیرا تو کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
میں تم سے زیادہ مشابہ ہوں نماز میں رسول اﷲ ﷺکی ۔
باسم اﷲ کے بعد ہمیں سورہ فاتحہ پڑھنی ہے جیسا کہ ہمیں اس حدیث سے معلوم ہوا اور یہ حدیث بھی سنئے کہ :
حدثنا علی بن عبداﷲ قال حدثنا سفیان قال حدثنا الزھری عن محمود بن الربیع عن عبادة بن الصامت ان رسول اﷲﷺقال لا صلا ة لمن لم یقرا بفاتحة الکتاب۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٩٠ ٫ حدیث : ٧٥٦ ٫ باب وجوب اقرأة للامام والماموم فی الصلوات کلھا فی الحضر والسفر وما یجھر فیھا وما یخافت ۔)
حضرت عبادہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس شخص نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
حضرت انس رضی اﷲ عنہ نے کہا ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ اور ابوبکر ٫ عمر اور عثمان رضی اﷲ عنھماکے پیچھے نماز پڑھی ہے یہ حضرات الحمدﷲ سے قرأت شروع کرتے تھے اور سور ہ فاتحہ سے پہلے اور بعد (کی قرأت )میں بسم اﷲ (جہر سے نہیں )پڑھتے تھے۔
بسم اﷲ کے بعد کوئی سورہ پڑھیں جو آپ کو پڑھنا آسان ہو ۔اس کی دلیل صفحہ : ٩ پر حضرت ابو ہریرہ کے قول میں آچکی ہے کہ(ان زدت علیھا فھوخیر۔۔۔۔۔۔۔الخ ) کہ( سورہ فاتحہ کے بعد مزید قرآ ن کریم کی آیات پڑھو۔۔۔۔۔۔۔الخ)۔ اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ: حدثنا ابراھیم بن موسی الرازی نا عیسی عن جعفر بن میمون البصری نا ابو عثمان النھدی حدثنی ابوھریرة قال قال لی رسول اﷲﷺاخرج فنادفی المدینة انہ لا صلوة الا بقران ولو بفاتحة الکتاب فما ذاد۔ (ابوداؤد ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٣٤٧ ٫ باب من ترک القرأة فی صلوتہ۔)
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اٹھ پکار آ مدینہ میں نماز درست نہیں ہوتی (اس شخص کی جو ) قرآن کے سوا (ہو ) اگر چہ وہ سورہ فاتحہ اور کچھ زیادہ (یعنی سورة )ہو ۔
سورہ پڑھنے کے بعد تکبیر کہہ کر رکوع کریں ۔جیسا کہ صفحہ : ٤٣پر موجود حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ(۔۔۔۔۔۔۔عن ابیہ ان رسول اﷲ ۖ۔۔۔۔۔۔۔واذا کبر لرکوع۔۔۔۔۔۔الخ)
( عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ۖنماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے تک اٹھا تے اسی طرح جب رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے اور جب اپنا سر مبارک رکوع سے اٹھاتے رفع یدین کرتے اور فرماتے سمع اﷲلمن حمدہ ربنا ولک الحمد٫ سجدہ جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ کیا میں تمھارے سامنے اس طرح نماز پڑھوں جیسے میں نے رسول اکرم ﷺپڑھتے دیکھا ہے ۔ہم نے کہا ضرور پڑھو وہ کھڑے ہوئے جب انہو ں نے رکوع کیا تو دونو ں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور انگلیاں گھٹنوں کے نیچے کر دیں اور اپنی بغلوں کو کھول دیا ٫ یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر ٹہر گیا پھر سر اٹھایا اور کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہر عضو سیدھا ہو گیا پھر سجدہ کیا تو دونوں بغلیں کھول دیں ٫ یہاں تک کہ ہر ایک عضو ٹہر گیا ۔پھر بیٹھے یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنی جگہ پر ٹہر گیا ٫پھر سجدہ کیا یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنی جگہ پر ٹہر گیا پھر ایسا ہی کیا چار رکعتوں میں ۔بعد اس کے کہا میں نے رسول اکرم ﷺکو اسی طرح پڑھتے دیکھا ہے اور آپ ﷺاسی طرح ہمارے ساتھ نماز پڑھاتے تھے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ:
٣۔ اور بغلیں کشادہ رکھنی ہیں۔
١۔ رکوع میں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھنی ہیں۔ ٢۔ انگلیاں گھٹنوں سے نیچے رکھنی ہیں ۔
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ شروع کرتے نماز کو اﷲ اکبر کہ کر اور قرأت کو الحمدﷲ سے اور جب رکوع کرتے توسر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ بیچ میں اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرہ سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعت کے بعد التحیات پڑھتیاور بایاں پاؤں بچھاکر داہنا پاؤں کھڑا کرتے اور منع کرتے شیطان کی بیٹھک سے اور منع کرتے تھے اس بات سے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمیں پر درندے (جانور)کی طرح بچھائے اور نماز کو سلام سے ختم کرتے تھے۔
رفاعہ بن رافع رضی اﷲ عنہ سے یہی راقعہ مروی ہے کہ اس میں یہ ہے جب تو کھڑا ہو اور قبلہ کی طرف منہ کرلے ٫ تکبیر کہے اور سورہ فاتحہ پڑھ اور جو اﷲ چاہے قرآن میں سے پڑھ جب رکوع کرے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ اور اپنی پیٹھ کو پھیلا اور برابر رکھ اور جب سر اٹھائے تو بیٹھ اپنی بائیں ران پر۔
اس حدیث سے ہمیں دو باتیں معلوم ہوئیں:
٢۔ حدثنا وھب بن بقےة عن خالد عن محمد یعنی ابن عمر وعن علی بن یحیی بن خلاد عن ابیہ عن رفاعة بن رافع بھذہ القصة قال اذا قمت فتوجھت الی القبلة فکبر ثم اقراء بام القرآن وبما شاء اﷲ ان تقرا و اذا رکعت فضع راحتیک علی رکبتیک رامدد ظھرک وقال اذا سجدت فمکن بسجودک فاذا رفعت فا قعدعلی فخرک الیسری۔(ابوداؤد ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٣٦٤ ٫حدیث : ٨٥٠ ) ١۔ رکوع میں دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھنی ہیں ۔ ٢۔ پیٹھ کو برابر رکھنا ہے۔
حدثنا قتیبة بن سعید ثنا ابن لھےة عن یزید یعنی ابن حبیب عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن عمرو العامری قال کنت فی مجلس رسول اﷲﷺفتذاکرو اصلا تہﷺفقال ابو حمید فذکر بعض ھذاالحدیث وقال فاذا رکع امکن کفیہ من وکبتیہ وفرج بین اصابعہ ثم ھصر ظھرہ غیر مقنع راسہ ولا صافح بخذہ وقال اذا قعد فی الرکعتین قعد علی بطن قدمہ الیسری ونصب الیمنی فاذا کان فی الرابعة افضی بودکہ الیسری الی الارض و اخرج قدمیہ من نا حےة واحدة۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣١٧ ٫حدیث : ٧٢٦ ٫ باب افتتاح الصلوة۔)
رسول اﷲ ﷺکے اصحاب رضوان اﷲعلیھم اجمعین انہوں نے آپ ﷺکی نماز کا ذکر کیا ابو حمید نے کہا پھر وہی حدیث بیان کی اور کہا جب آپ ﷺنے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر جمایا اور انگلیاں کشادہ رکھیں پھر پیٹھ کو خم کیا نہ سر کو اونچا نہ کسی طرف داہنے بائیں منہ کو موڑا بلکہ سیدھا قبلہ کی طرف رکھا جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھے تو بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھے داہنے پاؤں کو کھڑا کیا ٫ جب چوتھی رکعت کے بعد بیٹھے تو بائیں سرین کو زمین پر رکھ دیا اور دونوں پاؤں کو ایک طرف نکال دیا ۔
اس حدیث سے ہمیں دو باتیں معلوم ہوئیں :
حدثنا یحیی بن بکیر قال حدثنا اللیث عن خالد عن سعید عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء ح قال وحدثنی اللیث عن یزید بن ابی حبیب ویزید بن محمد عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء انہ کان جالسا مع نفر من اصحاب النبیﷺفذکرنا صلاة النبیﷺفقال ابوحمید الساعدی افا کنت احفطکم لصلاة رسول اﷲﷺرایتہ اذا کبر جعل یدیہ حذاء منکبیہ واذا رکع امکن یدیہ من رکبتیہ ثم ھصر ظھرہ فاذا رفع راسیہ استوی حتی یعود کل فقار مکانہ فاذا سجد وضع یدیہ غیرمفترش ولا قابضھما و استقبل با طراف اصابع رجلیہ القبلة فاذا جلس فی الرکعتین جلس علی رجلہ الیسری ونصب الیمنی واذا جلس فی الرکعة الاخرة قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علی مقعدة۔ ( صحیح بخاری ٫ جلد : ٢ ٫ صفحہ : ٢٩٢٨ ٫ حدیث : ٨٢٨ ٫ باب سنة الجلوس فی التشھد۔)
محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺکے چند اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی اکرم ﷺکی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہنے کہا کہ مجھے نبی اکرم ﷺکی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ جب آپ ﷺتکبیر کہتے تو اپنے ہاتھو ں کو کندھوں تک لے جاتے جب آپ ﷺرکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑتے اور پیٹھ کو جھکالیتے۔پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہوجاتے جب آپ ﷺسجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو اس طرح نہ رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے٫ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے جب آپ ﷺدو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو آگے کولیتے اور دائیں کو کھڑا کردیتے پھر مقعد پر بیٹھتے۔
(اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھٹنوں کو مضبوتی سے پکڑنا ہے۔)
١۔ ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا ہے ۔ ٢۔ انگلیاں کشادہ رکھنی ہیں۔گھٹنوں کو مضبوتی سے پکڑنا ہے
ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہ نے کہا میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں آپ ﷺکی نماز ٫ آپ نے رکوع کیا اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے گویا ان کو پکڑ لیا اور دونوں ہاتھوں کو سیدھا کیا گویا کمان کے چلے ہوگئے اور جدا رکھا پہلوؤں سے پھر سجدہ کیا اور اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر لگایا اور دونوں ہاتھوں کو جدا رکھا پہلوؤں سے ٫اور دونوں ہتھیلیوں کو مونڈھوں کے برابر رکھا پھر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ایک ہڈی اپنے ٹھکانے پر آگئی ٫ پھر دوسرا سجدہ کیا اوراس سے فارغ ہوئے پھر بیٹھے بایاں پاؤں بچھاکر اور داہنے پاؤں کو کھڑا کر دیا اور اس کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف کیا اور اپنی داہنی ہتھیلی کو داہنے گھٹنے پر رکھا اور بائیں ہتھیلی کو بائیںگھٹنے پر رکھا اور انگلی سے اشارہ کیا۔
١۔ معلوم ہوا کہ ہاتھوں کو کمان کے چلہ کی طرح رکھنا ہے۔ ٢۔ پہلوؤں سے جدا رکھنا ہے۔
براء بن عاذب رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے بتلایا کہ نبی اکرم ﷺکے رکوع و سجود دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً برابر تھے ۔سوا قیام اور تشھد کے قعودکے۔
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کو نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا نماز کے بعد اس نے آکر نبی اکرم ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے جواب دیکر فرمایا دوبارہ جاکر نماز پڑھ تونے نماز نہیں پڑھی چنانچہ اس نے دوبا رہ نماز پڑھی اور واپس آکر پھر آپ ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تونے نماز نہیں پڑھی تین بار اسی طرح ہوا آخر اس شخص نے کہاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ ﷺمجھے سکھلائیے ٫ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے جو تجھ سے آسا ن ہوسکے پڑھ اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہوجا پھر جب توسجدہ کرے تو پوری طرح سجدے میں چلا جا پھر سر اٹھا کر پوری طرح بیٹھ جا ٫ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر یہی طریقہ نماز کی تمام (رکعات)میں اختیار کر۔
٣ ۔ حدثنا مسدد قال حدثنا یحیی بن سعید عن عبیداﷲ قال حدثنی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ھریرة ان النبیﷺفرد علیہ النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل فصلی ثم جاء فسلم علی النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل ثلاثا فقال والذی بعثک بالحق فما احسن غیرہ فعلمنی قال اذا قمت الصلوة فکبر ثم اقراء ما تیسر معک من القرآن ثم ارکع حتی تطمئن راکعا ثم ارضع حتی تعتدل قائما ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم رفع حتی تطمئن جالسا ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم افعل ذلک فی صلا تک کلھا۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٥ ٫ حدیث : ٧٩٣ ٫ باب امر النبی ﷺالذی لایتم رکوعة بالاعادة ۔
٢۔ حدثنا حفص بن عمر قال حدثنا شعبة عن سلیمان قال سمعت زید بن وھب قال رای حذیفة رجلا لا یتم الرکوع والسجود قال ما صلیت ولو مت مت علی غیر الفطرة التی فطر اﷲ محمد ۖ۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٤ ٧٢٣ ٫ حدیث : ٧٩١ ٫ باب اذالم یتم الرکوع۔)
حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہنے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ اس لئے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی اور اگر تم مرگئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہوگی جس پر اﷲ تعالی نے نبی اکرم ﷺکو پیدا کیا تھا۔)
حضرت عائشہرضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ رکوع اور سجدہ میں سبحانک اللّٰھم ربنا و بحمدک اللّٰھم اغفرلی پڑھا کرتے تھے۔
٢۔ حدثنا حفص بن عمر نا شعبة قال قلت سلیمان ادعو فی الصلوة اذا مررت باےة تخوف فحدثنی عن سعید بن عبیدة عن مستورد عن صلة بن زفر عن حذیفة انہ صلی مع النبیﷺفکان یقول فی رکوعہ (سبحان ربی العظیم ) وفی السجودہ (سبحان ربی الاعلی ) وما مرباےة الاوقف عندھا فسال ولا باےة عذاب الاوقف عندھا فتعوذ۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣٦٩٣٦٨ ٫حدیث : ٨٦٢ ٫ باب ما یقول الرجل فی الرکوعہ و سجودہ۔)
حذیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی و ہ رکوع میں کہتیسبحان ربی العظیم اور سجدے میں کہتے سبحان ربی الاعلی اور جس آیت میں رحمت کا ذکر ہوتا وہاں ٹہرتے اور دعا کرتے اور جس آیت میں عذاب کا ذکر ہوتا وہاں ٹہرتے اور عذاب سے پناہ مانگتے۔
انس بن مالک رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ میں نے کسی جوان کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اﷲ ﷺکی نماز سے مشابہ ہو٫ زیادہ عمر بن عبدالعزیز سے انہوں نے کہا ہم نے ان کے رکوع کا اندازہ کیا دس تسبیحات کا اور سجدے کی دس تسبیحات کا۔
اس حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے جس میں تعداد کا اندازہ تین مرتبہ کا ہے لیکن وہ روایت صحیح نہیں ہے اور دس مرتبہ تسبیحات والی حدیث پر عمل کرنے سے صفحہ : ١٣ والی روایت پر بھی عمل ہوجاتا ہے کہ(عن البراء قال کان رکوع النبی وسجود ہ و بین السجدتین واذا رفع من الرکوع ما خلا القیام والقعود قریبا من السوائ۔) ترجمہ:(براء بن عاذب رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے بتلایا کہ نبی اکرم ﷺکے رکوع و سجود دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً برابر تھے ۔سوا قیام اور تشھد کے قعودکے۔) (ھذا ما عندی واﷲ اعلم باالصواب) رکوع کے بعد قیام کی کیفیت
حضرت انس رضی اﷲ عنہ ہمیں نبی کریم ﷺکی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے ٫ چنانچہ آپ نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ بھول گئے ہیں۔
ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہ ہمیں دکھلاتے کہ نبی اکرم ﷺکس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا ۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے پھر جب رکوع کیا پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے ابو قلابہ نے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہنے ہمارے اس شیخ ابو یزید کی طرح نماز پڑھائی ۔ ابو یزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے۔
٣۔ حدثنا بدل بن المحیر قال حدثنا شعبة قال اخبرنی الحکم عن ابن ابی لیلی عن البراء قال کان رکوع النبی وسجود ہ و بین السجدتین واذا رفع من الرکوع ما خلا القیام والقعود قریبا من السوائ۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٤ ٫ حدیث : ٧٩٢ ٫ باب حدا تمام الرکوع والاعتدال فیہ والاطانےة۔)
براء بن عاذب رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے بتلایا کہ نبی اکرم ﷺکے رکوع و سجود دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً برابر تھے ۔سوا قیام اور تشھد کے قعودکے (ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺرکوع سے اٹھنے کے بعد کافی دیر تک کھڑے رہتے۔)
١۔ حدثنا ابو الولید قال حدثنا شعبة عن ثابت قال کان انس ینعت لنا صلاة النبیﷺفکان یصلی فاذا رفع راسہ من الرکوع قام حتی نقول قد نسی۔(صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٨ ٫ حدیث : ٨٠٠ ٫ باب اطمانےة حین یرفع راسہ من الرکوع ۔) ٢۔ حدثنا سلیمان بن حرب قال حدثنا حماد بن زید عن ایوب عن ابی قلابة قال کان مالک بن حویرث یرینا کیف کان صلاة النبیﷺوذالک فی غیر وقت صلاة فقام فامکن القیام ثم رکع فامکن الرکوع ثم رفع راسہ فاننصب ھینة قال ابو قلابة فصلی بنا صلاة شیخنا ھذا ابی یزید وکان ابو یزید اذا رفع راسہ من السجدة الاخرة استوی قاعدا ثم نھض۔(صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٩ ٫ حدیث : ٨٠٢ ٫ باب اطمانےة حین یرفع راسہ من الرکوع ۔)
سالم بن عبداﷲ سے روایت ہے کہ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ۖنماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے تک اٹھا تے اسی طرح جب رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے اور جب اپنا سر مبارک رکوع سے اٹھاتے رفع یدین کرتے اور فرماتے سمع اﷲلمن حمدہ ربنا ولک الحمد٫ اور سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺجب بھی نماز میں کھڑے ہوتے تو
دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑتے۔
اس حدیث میںصراحت ہے کہ نماز کے ہر قیام میں (خواہ وہ رکعت سے اٹھ کر ہو یا رکوع کے بعد ہو) رسول اﷲ ﷺہاتھ باندھتے تھے۔ ہاتھ باندھنے کے بعد یہ دعائیں پڑھنا
١۔ حدثنا عبداﷲبن مسلمةعن مالک عن ابن شھا ب عن سالم بن عبداﷲ عن ابیہ ان رسول اﷲ ﷺکا ن یرفع یدیہ حذو منکبیہ اذاافتتح الصلاة واذا کبر لرکوع واذا رفع راسہ من الرکوع رفعھما کذالک ایضا وقال سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد وکان لا یفعل ذلک فی السجود۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٦٩ ٫ حدیث : ٧٣٥ ٫ باب رفع الیدین فی التکبیر الاولی مع الافتتاح سوائ۔)
سالم بن عبداﷲ سے روایت ہے کہ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ۖنماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے تک اٹھا تے اسی طرح جب رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے اور جب اپنا سر مبارک رکوع سے اٹھاتے رفع یدین کرتے اور فرماتے سمع اﷲلمن حمدہ ربنا ولک الحمد٫ سجدہ جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
٢۔ حدثنا عبداﷲبن مسلمةعن مالک عن نعیم بن عبداﷲ امجمر عن علی بن یحیی بن خلاد الزرقی عن ابیہ عن رفاعة بن رافع الزرقی قال کنا یوما نصلی وراء النبیﷺفلما رفع الراسہ من الرکعة قال سمع اﷲ لمن حمدہ قال رجل وراء ہ (ربنا ولک الحمد حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ) فلما انصرف قال من المتکلم قال انا قال رایت بضعة و ثلا ثین ملکا یبتدرونھا ایھم یکتبھا اول۔(صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٨ ٫ حدیث : ٧٩٩ ٫ باب : ١٢٦۔)
رفاعہ بن رافع رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺرکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے سمع اﷲ لمن حمدہ ایک شخص نے آپ ﷺکے پیچھے سے کہا ربنا ولک الحمد حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ آپ ﷺنے نماز سے فارغ ہو نے کے بعد فرمایا کہ کس نے یہ کلمات کہے ہیں ۔اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے ٫ اس پر آپ ﷺنے فرمایا کہ میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ ان کلمات کے لکھنے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تھے۔
٣۔ عن ابی سعید الخدری قال کان رسول اﷲﷺاذا رفع راسہ من الرکوع قال ربنا لک الحمد (ملأ السموات و ملأ الارض وملأ شئت من شیء بعد اھل الثناء والمجد احق ما قال العبد وکلنا لک العبد اللّٰھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجد منک الجد۔) ( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ٧٥ ٫ باب ما یقول اذا رفع راسہ من الرکوع۔)ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺجب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے ربنا لک الحمد(ملأ السموات و ملأ الارض وملأ شئت من شیء بعد اھل الثناء والمجد احق ما قال العبد وکلنا لک العبد اللّٰھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجد منک الجد۔
)
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا آنحضرت ﷺجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے (سجدہ کیلئے)جھکتے پھر جب سر اٹھاتے تو اﷲ اکبر کہتے ۔پھر جب سجدہ کے لئے جھکتے ٫ تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے اسیطرح آپ ﷺتمام نماز پوری کرلیتے تھے قعدہ اولی (دورکعات)سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔
اس حدیث سے ہمیں دو باتیں معلوم ہوئیں :
١۔ سجدہ میں جاتے وقت تکبیر کہنا ۔ ٢۔ آپ ﷺکی نماز میں یہی ترتیب رہتی تھی اور اگر چار رکعتی نماز ہوتی تو قعدہ اولی سے اٹھنے پر آپ ۖتکبیرکہتے تھے۔
عبداﷲ بن مالک بحینہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺجب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازؤں کو اس قدر پھیلادیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہوجاتی تھی۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے٫ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر اس طرح کے ہم اپنے نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حدثنا عیسی بن ابراہیم المصری ثنا ابن وھب عن اللیث بن سعد عن یزید بن ابی حبیب عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء نحو ھذا فاذا سجد وضع یدیہ غیر مفترش ولا قابضھا واستقبل با طراف اصابعہ القبلة۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣١٧ ٫حدیث : ٧٢٧ ٫ باب افتتاح الصلوة۔)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ جب آپ ﷺنے سجدہ کیا تو نہ آپ ۖنے ہاتھوں کو(پوری طرح) بچھایازمین پرنہ سمیٹ لیا اور اپنی انگلیوں کو قبلہ رخ کیا۔
ابو حمید ساعد ی رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ وہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما میں بیٹھے ہوئے تھے ٫ان میں ابو قتادہ بھی تھے ابو حمید نے کہامیں تم سب سے زیادہ رسول اﷲ ﷺکی نماز کو جانتا ہوں ان لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے قسم خدا کی تم ہم سے زیادہ پیروی نہیں کرتے تھے رسول اﷲ ﷺکی نہ ہم سے پہلے آپ ﷺکی صحبت میں آئے تھے ٫ ابو حمید رضی اﷲ عنہنے کہا یہ ٹھیک ہے ان لوگوں نے کہا اچھا بیان کرو ابو حمیدرضی اﷲ عنہنے کہا رسول اﷲ ﷺجب نماز کو کھڑے ہوتے ہاتھ اٹھا تے اپنے مونڈھوں تک پھر تکبیر کہتے جب ہر ایک ہڈی اپنے مقام پر آجاتی اعتدال سے تو آپ ﷺقرأت شروع کرتے پھر تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے کندھوںتک پھر رکوع کرتے اور دونوں ہتھیلیاں اپنے اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور پیٹھ سیدھی کرتے (اور سر کو پیٹھ کے برابر کرتے)نہ جھکاتے نہ اونچا کرتے پھر سر اٹھاتے اور فرماتے پھر دونوں ہاتھ اٹھاتے اپنے مونڈھوں تک سیدھے کھڑے ہوکر پھر اﷲ اکبر کہتے اور زمین کی طرف جھکتے تو دونوں ہاتھ کو اپنے پہلوؤں سے جدا رکھتے پھر اٹھاتے اپنا سر سجدے سے اور بائیں طرف پاؤں کو بچھاکر اس پر بیٹھتے اور سجدہ کے وقت اپنی انگلیوں کو کھلا رکھتے پھر دوسرا سجدہ کرتے اﷲ اکبر کہہ کر پھر سر اٹھاتے سجدے سے اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اتنی دیر تک کہ ہر ایک ہڈی اپنے ٹھکانے پرآجاتی (یعد اس کے کھڑے ہوتے )اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دو رکعت سے فارغ ہوکر کھڑے ہوتے اﷲ اکبر کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے کندھوں تک جیسا کہ شروع نماز کے وقت اٹھاتے تھے ٫ پھر باقی نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ جب اخیر سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہوتا ہے نکالتے بایاں پاؤں اپنا اور بیٹھتے بائیں کولہے پر ٫ ان صحابہ رضی اﷲ عنہمانے سن کر کہا سچ کہا تونے اسی طرح رسول اکرم ﷺنماز پڑھتے تھے۔
اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ سجدہ میں پیروں کی انگلیاں کشادہ رکھنی ہیں۔
وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺجب سجدہ کرتے تو اپنی انگلیاں ملا لیا کرتے تھے۔
(معلوم ہوا کہ سجدہ کرتے وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئیں ہونی چاہئیں۔
)
وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ۖنے نماز شروع کرتے وقت اپنے دونو ںہاتھ اٹھائے ہمام کا بیان ہے کہ رسول اکرم ﷺدونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے پھر چادر اوڑھ لی اس کے بعد سیدھا ہاتھ الٹے ہاتھ پر رکھا ۔پھر آپ ﷺنے چادر میں سے ہاتھ باہر نکال کر دونوں کندھوں تک اٹھا کے تکبیر پڑھی اس کے بعد رکوع میں گئے اور بہالت قیام سمع اﷲلمن حمدہ پڑھ کر رفع یدین کیا اور پھر آپ ﷺنے دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا ۔
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات بچھونے پر رسول اﷲ ﷺکو نہ پایا میں نے ڈھونڈا میرا ہاتھ آپ ﷺکے تلوے پر پڑا آپ ﷺ سجدہ میں تھے اور دونوں پاؤں کھڑے تھے اور فرماتے تھے٫ (اللّٰھم انی اعوذبرضاک من سخطک و بمعافاتک من عقوبتک و اعوذبک منک لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔)
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ اپنی باری والے دن میں نے رسول اکرم ﷺکو اپنے بستر پرنہ پایا جب اندھیرے میں آپ ﷺکوڈھونڈا تومیں نے آپ ﷺکو سجدہ کی حالت میں اس طرح پایا کہ آپ ﷺکی دونوں ایڑیاں باہم ملی ہوئی تھیں ٫ اور دونوں پیر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور ان کی انگلیاں قبلہ رخ تھیں میں نے سنا آپ ﷺفرمارہے تھے ( اعوذ برضاک من سخطک ٫ ویعفوک من عقوبتک و بک منک اثنی علیک لا ابلغ کل مافیک ) پھر جب آپ ﷺنماز سے فارغ ہوئے فرمایا اے عائشہ تیرے شیطان نے تجھے وسوسہ میں ڈال دیا تو میں نے عرض کیا ٫ کیا میرے ساتھ شیطان ہے ؟ فرمایا شیطان تو ہر آدمی کے ساتھ ہے تو میں نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول ﷺکیا آپ ﷺکے ساتھ بھی ہے ؟ فرمایا ہاں لیکن میںنے اس کے سامنے اﷲ کی دعوت پیش کی وہ مسلمان ہوگیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوگیاکہ سجدہ میں دونوں پیر ملے ہونے چاہئیں اور انکی انگلیاں قبلہ رخ ہونی چاہئیں۔
حضرت میمونہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺجس وقت سجدہ کرتے دونوں ہاتھوں کو بغلوں سے جدا رکھتے اتناکہ اگر بکری کا بچہ چاہے تو ہاتھوں کے نیچے سے چلا جاوے۔
حدثنا حفص بن عمر النمری نا شعبة عن سلیمان عن عمارة بن عمیر عن ابی معمر عن ابی مسعود البدری قال قال رسول اﷲ ﷺلا تجزی صلوة الرجل حتی یقیم ظھرہ فی الرکوع والسجود۔ ( ابوداؤد ٫ د :١ ٫ صفحہ : ٣٦١ ٣٦٢ ٫حدیث : ٨٤٦ ٫ باب صلوة من لا یقیم صلبہ فی الرکوع و السجود۔)
ابو مسعود بدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فر مایا آدمی کی نماز درست نہیں ہوتی جب تک اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے رکوع اور سجدے میں۔
سجدہ میں دونوں رانوں کا کشادہ رکھنا اور پیٹ اور رانوں کے درمیان فاصلہ رکھنا
ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ سجدہ کیا (آپ ﷺنے) تو دونوں رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کو رانوں سے نہ لگایا۔
کہ سنا ہم نے ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہ سے ٫ وہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما میں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (کہ رسول اﷲ ۖ) دونوں ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے جدا رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔۔الخ۔
سجدہ میں اعتدال کرنا
براء بن عاذب رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے بتلایا کہ نبی اکرم ﷺکے رکوع و سجود دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً برابر تھے ۔سوا قیام اور تشھد کے قعودکے۔
٢۔ حدثنا حفص بن عمر قال حدثنا شعبة عن سلیمان قال سمعت زید بن وھب قال رای حذیفة رجلا لا یتم الرکوع والسجود قال ما صلیت ولو مت مت علی غیر الفطرة التی فطر اﷲ محمد ۖ۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٤ ٧٢٣ ٫ حدیث : ٧٩١ ٫ باب اذالم یتم الرکوع۔)
حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہنے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ اس لئے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑہی اور اگر تم مرگئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہوگی جس پر اﷲ تعالی نے نبی اکرم ﷺکو پیدا کیا تھا۔
٣ ۔ حدثنا مسدد قال حدثنا یحیی بن سعید عن عبیداﷲ قال حدثنی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ھریرة ان النبیﷺفرد علیہ النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل فصلی ثم جاء فسلم علی النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل ثلاثا فقال والذی بعثک بالحق فما احسن غیرہ فعلمنی قال اذا قمت الصلوة فکبر ثم اقراء ما تیسر معک من القرآن ثم ارکع حتی تطمئن راکعا ثم ارفع حتی تعتدل قائما ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم رفع حتی تطمئن جالسا ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم افعل ذلک فی صلا تک کلھا۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٥ ٫ حدیث : ٧٩٣ ٫ باب امر النبی ﷺالذی لایتم رکوعة بالاعادة ۔)
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کو نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا نماز کے بعد اس نے آکر نبی اکرم ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے جواب دیکر فرمایا دوبارہ جاکر نماز پڑھ تونے نماز نہیں پڑھی چنانچہ اس نے دوبا رہ نماز پڑھی اور واپس آکر پھر آپ ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تونے نماز نہیں پڑھی تین بار اسی طرح ہوا آخر اس شخص نے کہاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ ﷺمجھے سکھلائیے ٫ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے جو تجھ سے آسا ن ہوسکے پڑھ اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہوجا پھر جب توسجدہ کرے تو پوری طرح سجدے میں چلا جا پھر سر اٹھا کر پوری طرح بیٹھ جا ٫ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر یہی طریقہ نماز کی تمام (رکعات)میں اختیار کر۔ سجدہ کی تسبیحات اور ان کی تعداد
١۔ حدثنا حفص بن عمر قال حدثنا شعبة عن منصور عن ابی الضحی عن مسروق عن عائشةرضی اﷲعنہا قالت کان النبیﷺیقول فی رکوعہ و سجودہ (سبحانک اللّٰھم ربنا و بحمدک اللّٰھم اغفرلی)۔(صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٥ ٧٢٦ ٫ حدیث : ٧٩٤ ٫ باب دعاء فی الرکوع۔)
حضرت عائشہرضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ رکوع اور سجدہ میں سبحانک اللّٰھم ربنا و بحمدک اللّٰھم اغفرلی پڑھا کرتے تھے۔
حذیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی و ہ رکوع میں کہتے سبحان ربی العظیم اور سجدے میں کہتے سبحان ربی الاعلی اور جس آیت میں رحمت کا ذکر ہوتا وہاں ٹہرتے اور دعا کرتے اور جس آیت میں عذاب کا ذکر ہوتا وہاں ٹہرتے اور عذاب سے پناہ مانگتے۔
انس بن مالک رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ میں نے کسی جوان کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اﷲ ﷺکی نماز سے مشابہ ہو٫ زیادہ عمر بن عبدالعزیز سے انہوں نے کہا ہم نے ان کے رکوع کا اندازہ کیا دس تسبیحات کا اور سجدے کی دس تسبیحات کا۔(ھذا ما عندی واﷲ اعلم باالصواب)
١۔ حدثنا بدل بن المحبر قال حدثنا شعبة قال اخبرنی الحکم عن ابن ابی لیلی عن البراء قال کان رکوعالنبی وسجود ہ و بین السجدتین واذا رفع من الرکوع ما خلا القیام والقعود قریبا من السوائ۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٤ ٫ حدیث : ٧٩٢ ٫ باب حد التمام الرکوع والاعتدال فیہ والاطانےة۔) ٢۔ حدثنا حفص بن عمر نا شعبة قال قلت سلیمان ادعو فی الصلوة اذا مررت باےة تخوف فحدثنی عن سعید بن عبیدة عن مستورد عن صلة بن زفر عن حذیفة انہ صلی مع النبیﷺفکان یقول فی رکوعہ (سبحان ربی العظیم ) وفی السجودہ (سبحان ربی الاعلی ) وما مرباےة الاوقف عندھا فسال ولا باےة عذاب الاوقف عندھا فتعوذ۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣٦٩٣٦٨ ٫حدیث : ٨٦٢ ٫ باب ما یقول الرجل فی الرکوعہ و سجودہ۔)
٣۔ حدثنا احمد بن صالح وابن رافع قالا نا عبداﷲ بن ابراھیم بن عمر بن کیسان حدثنی ابی عن وھب بن مانوس قال سمعت سعید بن جبیر یقول سمعت انس بن مالک یقول ما صلیت وراء احد بعد رسول اﷲﷺاشبہ صلوة برسول اﷲﷺمن ھذا الفتی یعنی عمر بن عبدالعزیز قال فحزرنا فی رکوعہ عشر تسبیحات و فی سجودہ عشر تسبیحات۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣٧٤ ٫حدیث : ٨٧٩ ٫ باب مقدار الرکوع و سجود۔) جلسہ
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا آنحضرت ﷺجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے (سجدہ کیلئے)جھکتے پھر جب سر اٹھاتے تو اﷲ اکبر کہتے ۔پھر جب سجدہ کے لئے جھکتے تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے اسی طرح آپ ﷺتمام نماز پوری کرلیتے تھے قعدہ اولی سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔
ابو حمید ساعد ی رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ وہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما میں بیٹھے ہوئے تھے ان میں ابو قتادہ بھی تھے ابو حمید نے کہا میں تم سب سے زیادہ رسول اﷲ ﷺکی نماز کو جانتا ہوں ان لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے قسم خدا کی تم ہم سے زیادہ پیروی نہیں کرتے تھے رسول اﷲ ﷺکی نہ ہم سے پہلے آپ ﷺکی صحبت میں آئے تھے ٫ ابو حمید رضی اﷲ عنہنے کہا یہ ٹھیک ہے ان لوگوں نے کہا اچھا بیانکرو ابو حمیدرضی اﷲ عنہنے کہا رسول اﷲ ﷺجب نماز کو کھڑے ہوتے ہاتھ اٹھا تے اپنے مونڈھوں تک پھر تکبیر کہتے جب ہر ایک ہڈی اپنے مقام پر آجاتی اعتدال سے تو آپ ﷺقرأت شروع کرتے پھر تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے کندھوںتک پھر رکوع کرتے اور دونوں ہتھیلیاں اپنے اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور پیٹھ سیدھی کرتے (اور سر کو پیٹھ کے برابر کرتے)نہ جھکاتے نہ اونچا کرتے پھر سر اٹھاتے اور فرماتے پھر دونوں ہاتھ اٹھاتے اپنے مونڈھوں تک سیدھے کھڑے ہوکر پھر اﷲ اکبر کہتے اور زمین کی طرف جھکتے تو دونوں ہاتھ کو اپنے پہلوؤں سے جدا رکھتے پھر اٹھاتے اپنا سر سجدے سے اور بائیں طرف پاؤں کو بچھاکر اس پر بیٹھتے اور سجدہ کے وقت اپنی انگلیوں کو کھلا رکھتے پھر دوسرا سجدہ کرتے اﷲ اکبر کہہ کر پھر سر اٹھاتے سجدے سے اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اتنی دیر تک کہ ہر ایک ہڈی اپنے ٹھکانے پرآجاتی (بعد اس کے کھڑے ہوتے )اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دو رکعت سے فارغ ہوکر کھڑے ہوتے اﷲ اکبر کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے کندھوں تک جیسا کہ شروع نماز کے وقت اٹھاتے تھے ٫ پھر باقی نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ جب اخیر سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہوتا ہے نکالتے بایاں پاؤں اپنا اور بیٹھتے بائیں کولہے پر ٫ ان صحابہ رضی اﷲ عنہمانے سن کر کہا سچ کہا تونے اسی طرح رسول اکرم ﷺنماز پڑھتے تھے۔
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ شروع کرتے نماز کو اﷲ اکبر کہ کر اور قرأت کو الحمدﷲ سے اور جب رکوع کرتے توسر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ بیچ میں اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرہ سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعت کے بعد التحیاتپڑھتے اور بایاں پاؤں بچھاکر داہنا پاؤں کھڑا کرتے اور منع کرتے شیطان کی بیٹھک سے اور منع کرتے تھے اس بات سے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمیں پر درندے (جانور)کی طرح بچھائے اور نماز کو سلام سے ختم کرتے تھے۔
ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہ نے کہا میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں آپ ﷺکی نماز ٫ آپ نے رکوع کیا اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے گویا ان کو پکڑ لیا اور دونوں ہاتھوں کو سیدھا کیا گویا کمان کے چلے ہوگئے اور جدا رکھا پہلوؤں سے پھر سجدہ کیا اور اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر لگایا اور دونوں ہاتھوں کو جدا رکھا پہلوؤں سے ٫اور دونوں ہتھیلیوں کو مونڈھوں کے برابر رکھا پھر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ایک ہڈی اپنے ٹھکانے پر آگئی ٫ پھر دوسرا سجدہ کیا اوراس سے فارغ ہوئے پھر بیٹھے بایاں پاؤں بچھاکر اور داہنے پاؤں کو کھڑا کر دیا اور اس کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف کیا اور اپنی دا ہنی ہتھیلی کو داہنے گھٹنے پر رکھا اور بائیں ہتھیلی کو بائیںگھٹنے پر رکھا اور انگلی سے اشارہ کیا۔
٢۔ اخبرنا ربیع بن سلیمان بن داؤد قال حدثنا اسحق بن بکر بن منصور قال حدثنی ابی عن عمرو بن الحارث عن یحیی عن ان القاسم حدثہ عن عبداﷲ وہو ابن عبداﷲ بن عمرو عن ابیہ قال من سنة الصلاة ان تنصب القدم الیمنی و استقبالہ با صابعھا القبلة والجلوس علی الیسری ۔(نسائی ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٤٢٢ ٫حدیث : ١١٦١ ٫ باب الاستقبال باطراف اصابع القدم القبلة عندالقعود للتشھد۔)
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہنے کہا نماز کی سنت یہ ہے کہ داہنے پاؤں کو کھڑا کرے اور انگلیاں قبلے کی طرف کرے اور بائیںپاؤں کو بچھا کر بیٹھے ۔
ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہ نے کہا میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں آپ ﷺکی نماز ٫ آپ نے رکوع کیا اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے گویا ان کو پکڑ لیا اور دونوں ہاتھوں کو سیدھا کیا گویا کمان کے چلے ہوگئے اور جدا رکھا پہلوؤں سے پھر سجدہ کیا اور اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر لگایا اور دونوں ہاتھوں کو جدا رکھا پہلوؤں سے ٫اور دونوں ہتھیلیوں کو مونڈھوں کے برابر رکھا پھر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ایک ہڈی اپنے ٹھکانے پر آگئی ٫ پھر دوسرا سجدہ کیا اوراس سے فارغ ہوئے پھر بیٹھے بایاں پاؤں بچھاکر اور داہنے پاؤں کو کھڑا کر دیا اور اس کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف کیا اور اپنی دا ہنی ہتھیلی کو داہنے گھٹنے پر رکھا اور بائیں ہتھیلی کو بائیںگھٹنے پر رکھا اور انگلی سے اشارہ کیا۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺکے ساتھ جب ہم لوگ نماز پڑھتے تو نماز کے ختم پر دائیں بائیں السلام علیکم ورحمة اﷲ کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے یہ ملاحظہ فرما کر حضور ﷺنے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوجیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں تمھیں یہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں بائیں منہ موڑ کر السلام علیکم ورحمة اﷲ کہا کرو۔
عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور داہنے ہاتھ کی قلمے کی انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر بچھادیتے ۔
عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور داہنے ہاتھ کی قلمے کی انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر بچھادیتے ۔
٢۔ حدثنا عبداﷲ حدثنی اب حدثنا عبدالرزاق اخبرنا سفیان عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن وائل بن حجر قال رایت النبیﷺکبر فرفع یدیہ حین کبر یعنی استفتاح الصلاة و رفع یدیہ حین کبر ورفع یدیہ حین رکع ورضع یدیہ حین قال سمع اﷲ لمن حمدہ وسجدہ فوضع یدیہ حذو اذنیہ ثم جلس فافترش رجلہ الیسری ثم وضع یدہ الیسری علی رکبتیہ الیسری ووضع ذراعہ الیمنی علی فخذہ الیمنی ٫ ثم اشار بسبابة و وضع الابھام علی الوسطی وقبض سائر اصابعہ ثم سجد فکانت یداہ حذاء اذنیہ۔(مسند احمد ٫ جلد : ٤ ٫ صفحہ : ٣٨٩ ٫ حدیث : ١٨٨٨٢)
حضرت وائل بن حجر رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ فرمایا ٫ میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا (پہلی )تکبیرکہی تو رفع یدین کیا یعنی شروع نماز کی طرح پھر رفع یدین کرتے جب رکوع کرتے ٫ فرماتے سمع اﷲ لمن حمدہ اور رفع یدین کیا اور سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے برابر( زمین پر)رکھے پھر بیٹھے تو بایاں پاؤں بچھایا اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھا اور دایاں بازو دائیں ران پر رکھا اور انگلیسبابہ سے اشارہ کیا اور اپنا انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھا اور باقی انگلیوں کو بند رکھا پھر سجدہ کیا اور سجدہ میں ہاتھ کانوں کے پاس رکھے۔
حضرت مالک بن نمیر خزائی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے باپ سے سنا انہوں نے رسول اﷲ ﷺکو دیکھا آپ ﷺنماز میںبیٹھے تھے داہنا ہاتھ داہنی ران پر رکھتے تھے اور کلمے کی انگلی کو اٹھائے تھے اس کو کسی قدر خم کیا تھا اور آپ ﷺدعا کررہے تھے۔
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کر رسول اﷲ ﷺجب تشھد میں بیٹھتے تو بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے اور (داہنے ہاتھ کی) انگلی سے اشارہ کرتے اور وہیں اپنی نگاہ رکھتے۔
عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز میں اپنے ہاتھ سے کنکری کو حرکت دے رہا تھا پس جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو عبداﷲ رضی اﷲ عنہنے اسے کہا جب تم نماز میں ہو توکنکریوں سے مت کھیلو کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے بلکہ تمہیں اس طرح کرنا چاہئے جس طرح رسول اﷲ ﷺکرتے تھے پھر انہوں نے دایاں ہاتھ اپنے گھٹنے پر رکھا اور اپنی شھادت کی انگلی سے قبلہ رخ اشارہ کیااور آپ کی نظریں اس انگلی پر تھیںپھر فرمایا اس طرح رسول اﷲ ۖکرتے تھے۔
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کو نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا نماز کے بعد اس نے آکر نبی اکرم ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے جواب دیکر فرمایا دوبارہ جاکر نماز پڑھ تونے نماز نہیں پڑھی چنانچہ اس نے دوبا رہ نماز پڑھی اور واپس آکر پھر آپ ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تونے نماز نہیں پڑھی تین بار اسی طرح ہوا آخر اس شخص نے کہاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ ﷺمجھے سکھلائیے ٫ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے جو تجھ سے آسا ن ہوسکے پڑھ اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہوجا پھر جب توسجدہ کرے تو پوریطرح سجدے میں چلا جا پھر ( سجدے سے ) سر اٹھا کر پوری طرح بیٹھ جا ٫ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر یہی طریقہ نماز کی تمام (رکعات)میں اختیار کر۔
٢۔ حدثنا بدل بن المحبر قال حدثنا شعبة قال اخبرنی الحکم عن ابن ابی لیلی عن البراء قال کان رکوع النبی وسجود ہ و بین السجدتین واذا رفع من الرکوع ما خلا القیام والقعود قریبا من السوائ۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٤ ٫ حدیث : ٧٩٢ ٫ باب حد التمام الرکوع والاعتدال فیہ والاطانےة۔)
براء بن عاذب رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے بتلایا کہ نبی اکرم ﷺکے رکوع و سجود دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً برابر تھے ۔سوا قیام اور تشھد کے قعودکے۔
٣۔ حدثنا سلیمان بن حرب قال حدثنا حماد بن زید عن ثابت عن انس رضی اﷲ عنہ قال: انی لا الو ان اصلی بکم کما رایت النبیﷺیصلی بنا قال ثابت کان انس یصنع شیئا لم ارکم تصنعونہ کان اذا رفع راسہ من الرکوع قام حتی یقول القائل قد نسی ٫ و بین السجدتین یقول القائل قدنسی۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ٢ ٫ صفحہ : ٢٥٢٤ ٫ حدیث : ٨٢١ ٫ باب المکث بین السجدتین۔)
حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی اکرم ﷺکو نماز پڑھتے دیکھا تھا تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں ثابت نے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمھیں کرتے نہیں دیکھتا جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ آپ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔
ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺدونوں سجدوں کے بیچ میں فرماتے تھے( اللّٰھم اغفرلی والرحمنیوعافنی واھدنی والرزقنی)۔
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا آنحضرت ﷺجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے (سجدہ کیلئے)جھکتے پھر جب سر اٹھاتے تو اﷲ اکبر کہتے ۔پھر جب سجدہ کے لئے جھکتے تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے اسی طرح آپ ﷺتمام نماز پوری کرلیتے تھے قعدہ اولی سے اپھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔
پہلے سجدے اور دوسرے کے درمیان کسی حدیث سے ہیت کا فرق ثابت نہیں لہذا دوسرا سجدہ بھی پہلے فکی طرح ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا آنحضرت ۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔(جلسہ استراحت) یعنی طاق رکعتوں میں سجدہ سے اٹھ کر کچھ دیر بیٹھنا سنت ہے
١۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمعت ابا عمید الساعدی فی عشرة من اصحاب رسول اﷲ ۖ۔۔۔۔۔۔۔۔ثم یسجد ثم یقول اﷲ اکبر ویرفع ویثنی رجلہ الیسری فیقعد علیھا حتی یرجع کل عظم الی موضعہ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔(دیکھئے صفحہ : ٢٤٢٣)
ابو حمید ساعد ی رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ وہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔( کہ رسول اﷲ ۖ)پھر دوسرا سجدہ کرتے اﷲ اکبر کہہ کر پھر سر اٹھاتے سجدے سے اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اتنی دیر تک کہ ہر ایک ہڈی اپنے ٹھکانے پرآجاتی (یعد اس کے کھڑے ہوتے )۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔
٢۔ حدثنا مسدد قال حدثنا یحیی بن سعید عن عبیداﷲ قال حدثنی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ھریرة ان النبیﷺفرد علیہ النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل فصلی ثم جاء فسلم علی النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل ثلاثا فقال والذی بعثک بالحق فما احسن غیرہ فعلمنی قال اذا قمت الصلوة فکبر ثم اقراء ما تیسر معک من القرآن ثم ارکع حتی تطمئن راکعا ثم ارضع حتی تعتدل قائما ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم رفع حتی تطمئن جالسا ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم افعل ذلک فی صلا تک کلھا۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٥ ٫ حدیث : ٧٩٣ ٫ باب امر النبی ﷺالذی لایتم رکوعة بالاعادة ۔)
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کو نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا نماز کے بعد اس نے آکر نبی اکرم ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے جواب دیکر فرمایا دوبارہ جاکر نماز پڑھ تونے نماز نہیں پڑھی چنانچہ اس نے دوبا رہ نماز پڑھی اور واپس آکر پھر آپ ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تونے نماز نہیں پڑھی تین بار اسی طرح ہوا آخر اس شخص نے کہاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ ﷺمجھے سکھلائیے ٫ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے جو تجھ سے آسا ن ہوسکے پڑھ اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہوجا پھر جب توسجدہ کرے تو پوری طرح سجدے میں چلا جا پھر سر اٹھا کر پوری طرح بیٹھ جا ٫ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر یہی طریقہ نماز کی تمام (رکعات)میں اختیار کر۔
٣۔ حدثنا سلیمان بن حرب قال حدثنا حماد بن زید عن ایوب عن ابی قلابة قال کان مالک بن حویرثیرینا کیف کان صلاة النبیﷺوذالک فی غیر وقت صلاة فقام فامکن القیام ثم رکع فامکن الرکوع ثم رفع راسہ فانصب ھینة قال ابو قلابة فصلی بنا صلاة شیخنا ھذا ابی یزید وکان ابو یزید اذا رفع راسہ من السجدة الاخرة استوی قاعدا ثم نھض۔(صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٩ ٫ حدیث : ٨٠٢ ٫ باب اطمانےة حین یرفع راسہ من الرکوع ۔)
ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہ ہمیں دکھلاتے کہ نبی اکرم ﷺکس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا ۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے پھر جب رکوع کیا پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے ابو قلابہ نے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہنے ہمارے اس شیخ ابو یزید کی طرح نماز پڑھائی ۔ ابو یزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے۔
ابو قلابہ نے بیان کیا کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری مسجد میں نماز پڑھائی آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھارہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی کی نہیں ہے بلکہ میں تم کو صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺکس طرح نمازپڑھا کرتے تھے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے ابو قلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اﷲ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح ٫ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے اٹھتے تو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے۔دوسری رکعت کو پہلی رکعت کی طرح ہی ادا کیا جائیگا
١ ۔ حدثنا مسدد قال حدثنا یحیی بن سعید عن عبیداﷲ قال حدثنی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ھریرة ان النبیﷺفرد علیہ النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل فصلی ثم جاء فسلم علی النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل ثلاثا فقال والذی بعثک بالحق فما احسن غیرہ فعلمنی قال اذا قمت الصلوة فکبر ثم اقراء ما تیسر معک من القرآن ثم ارکع حتی تطمئن راکعا ثم ارضع حتی تعتدل قائما ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم رفع حتی تطمئن جالسا ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم افعل ذلک فی صلا تک کلھا۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٥ ٫ حدیث : ٧٩٣ ٫ باب امر النبی ﷺالذی لایتم رکوعة بالاعادة ۔)
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کو نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا نماز کے بعد اس نے آکر نبی اکرم ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے جواب دیکر فرمایا دوبارہ جاکر نماز پڑھ تونے نماز نہیں پڑھی چنانچہ اس نے دوبا رہ نماز پڑھی اور واپس آکر پھر آپ ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ نما زپڑھ کیونکہ تونے نماز نہیں پڑھی تین بار اسی طرح ہوا آخر اس شخص نے کہاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ ﷺمجھے سکھلائیے ٫ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے جو تجھ سے آسا ن ہوسکے پڑھ اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہوجا پھر جب توسجدہ کرے تو پوری طرح سجدے میں چلا جا پھر سر اٹھا کر پوری طرح بیٹھ جا ٫ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر یہی طریقہ نماز کی تمام (رکعات)میں اختیار کر۔
٢۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمعت ابا عمید الساعدی فی عشرة من اصحاب رسول اﷲ ۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثم یصنع فی الاخری مثل ذلک۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ (دیکھئے صفحہ ٢٤٢٣)
ابو حمید ساعد ی رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ وہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( کہ رسول اﷲ ۖ) دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔
حدثنا قتیبة بن سعید ثنا ابن لھےة عن یزید یعنی ابن حبیب عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن عمرو العامری قال کنت فی مجلس رسول اﷲﷺفتذکروا صلا تہﷺفقال ابو حمید فذکر بعض ھذاالحدیث وقال فاذا رکع امکن کفیہ من وکبتیہ وفرج بین اصابعہ ثم ھصر ظھرہ غیر مقنع راسہ ولا صافح بخذہ وقال اذا قعد فی الرکعتین قعد علی بطن قدمہ الیسری ونصب الیمنی فاذا کان فی الرابعة افضی بورکہ الیسری الی الارض و اخرج قدمیہ من نا حےة واحدة۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣١٧ ٫حدیث : ٧٢٦ ٫ باب افتتاح الصلوة۔)
رسول اﷲ ﷺکے اصحاب رضی اﷲعنھم انہوں نے آپ ﷺکی نماز کا ذکر کیا ابو حمید نے کہا پھر وہی حدیث بیان کی اور کہا جب آپ ﷺنے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر جمایا اور انگلیان کشادہ رکھیں پھر پیٹھ کو خم کیا نہ سر کو اونچا نہ کسی طرف داہنے بائیں منہ کو موڑا بلکہ سیدھا قبلہ کی طرف رکھا جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھے تو بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھے داہنے پاؤں کو کھڑا کیا ٫ جب چوتھی رکعت کے بعد بیٹھے تو بائیں سرین کو زمین پر رکھ دیا اور دونوں پاؤں کو ایک طرف نکال دیا ۔
سیدھا بیٹھنے کے بعد ہاتھوں کی کیفیت اس طرح ہونی چاہئے جیسے جلسے میں تھی
١۔ عن ابن عمر ان النبیﷺکان اذا جلس فی الصلوة وضع یدیہ علی رکبتیہ ورفع اصبعہ الیمنی التی تلی الابھام فدعا بھا ویدہ الیسری علی رکبتیہ الیسری با سطھما علیھا۔( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ١٤٢ ٫ باب صفة اجلوس فی الصلوة و کیفة وضع الیدین علی الفخذین۔ )
عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور داہنے ہاتھ کی قلمے کی انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر بچھادیتے ۔
٢۔ عن ابن عمر ان النبیﷺکان اذا قعد فی التشھد وضع یدہ الیسری علی رکبتییہ الیسری ووضع یدہ الیمنی و عقد ثلا ثا و خمسین و اشار بالسبابة۔( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ١٤٢ ١٤٣ ٫ باب صفة اجلوس فی الصلوة و کیفة وضع الیدین علی الفخذین۔ )
عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ جب تشھد میں بیٹھتے توبایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور داہنا ہاتھ داہنے گھٹنے پر رکھتے اور ٥٣ کی شکل بناتے اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے۔
(باقی تفصیل کے لئے دیکھئے صفحہ : ٣١ سے ٤٠ تک۔)
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺکے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے تو کہتے سلام ہو جبرئیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر نبی اکرم ﷺایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اﷲ تو خود سلام ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے (التحیات ﷲ والصلوت و اطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمة اﷲ و برکاتہ السلام علینا و علی عباد اﷲ الصالحین) جب تم یہ کہوگے تو تمھارا سلام آسمانوں و زمین میں جہاں کوئی اﷲ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا(اشھد ان محمد ا عبدہ و رسولہ ۔)
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ سنت ہے تشھد کا آہستہ پڑھنا۔دو وکعتی نماز میں صرف التحیات پڑھ کے کھڑے ہوجانا
حدثنا عبداﷲ حدثنی ابی حدثنا یعقوب قال حدثنی ابی عن ابن اسحاق قال حدثنی عن تشھد رسول اﷲ ﷺفی وسط الصلوة و فی اخرھا عبدالرحمن بن الاسود بن یزید النخعی عن ابیہ عن عبداﷲ بن مسعود قال علمنی رسول اﷲﷺالتشھد فی وسط الصلا ة و فی اخرھا فکنا نحفظ عن عبداﷲ حین اخبرنا ان رسول اﷲﷺعلمہ ایاہ قال فکان یقول اذا جلس فی وسط الصلا ة و فی اخرھا علی و رکہ الیسری (التحیات ﷲ والصلوت و اطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمة اﷲ و برکاتہ السلام علینا و علی عباد اﷲ الصالحین ٫ اشھد ان لا الہ الا اﷲ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ) قال ثم ان کان فی وسط الصلاة نھض حین یضرغ من تشھدہ و ان کان فی اخرھا دعا بعد تشھدبما شاء اﷲ ان یدعوثم یسلم۔(مسند احمد ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٥٩٤ ٫ حدیث : ٤٣٨١ ۔)
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے مجھے درمیانہ اور آخری رکعت کا تشھد سکھایا ۔۔۔۔۔ فرمایا کہ جب تم بیٹھو درمیان میںنماز کے یا آخر میں تو کہو (التحیات ﷲ والصلوت و اطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمة اﷲ و برکاتہ السلام علینا و علی عباد اﷲ الصالحین ٫ اشھد ان لا الہ الا اﷲ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ) فرمایا پھر اگر نماز کے درمیان میں ہوتوتشھد سے فارغ ہوتے ہی کھڑے ہوجاؤ اور اگر نماز کے آخر میں ہو تو پھر تشھد کے بعد دعاکروجو اﷲ چاہے اس سے دعا کرو پھر سلام پھیر دو۔۔۔۔۔
افضل یہی ہے کہ التحیات کہ بعد درود بھی پڑھے کیونکہ نبی اکرم ﷺنے التحیات پڑھنے کے بعد دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اخبرنا محمد بن المثنی قال حدثنا محمد قال حدثنا شعبة قال سمعت ابا اسحق یحدث عن ابی الاحوص عن عبداﷲ قال کنا لاندری ما نقول فی کل رکعتین غیر ان نسبح ونکبر ونحمد ربناوان محمداۖ علم فواتح الخیر و خواتمہ فقال اذا قعد تم فی کل رکعتین فقولوا ( التحیات ﷲ والصلوات واطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمة اﷲوبرکاتہ السلام علینا وعلیٰٰٰ عباد اﷲ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اﷲ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ)ویستخیر احد کم من الدعاء اعجبہ الیہ فلیدع اﷲ عزوجل۔(نسائی ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٤٢٤ ٫ حدیث : ١١٦٦ ٫ باب کیف التشھد ۔)
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ ہم کیا کہیں جب دو رکعت پڑھ کربیٹھیں سوا اس کے کہ تسبیحکہیں اور تکبیر کہیں اور تعریف کریں اپنے پروردگار کی اور کہیں کہ نبی اکرم ﷺوہ باتیں سکھائے گئے جن کا اول وآخر اچھا ہے تو آپ ﷺنے فرمایا جب تم بیٹھو دو رکعت پڑھ کر تو یوں کہو ( التحیات ﷲ والصلوات واطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمة اﷲوبرکاتہ السلام علینا وعلیٰٰٰ عباد اﷲ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اﷲ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ) پھر اختیار کرلو کوئی دعا جوپہلے معلوم ہواور مانگو اﷲ عزوجل سے۔
اور ظاہر ہے دعا سے پہلے درود پڑھنا لازمی ہے۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا :
حدثنا احمد بن حنبل نا عبداﷲ بن یزید نا حیوة اخبرنی ابو ھانیء حمید بن ھانی ان ابا علی عمروبن مالک انہ سمع فضالة بن عبید صاحب رسول اﷲﷺیقول سمع رسول اﷲﷺرجلا یدعو فی صلا تہ لم یمجد اﷲ ولم یصلی علی النبیﷺفقال رسول اﷲﷺعجل ھذا ثم دعاہ فقال لہ او لغیرہ اذا صلی احد کم فلیبدا بتمجید ربہ والثناء علیہ ثم یصلی علی النبیﷺثم یدعو بعد بماشائ۔ (ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٥٩٨ ٫حدیث : ١٤٦٧ ٫ باب الدعائ۔)
فضالہ بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے سنا ایک شخص دعا کرہا تھا نماز میں نہ تو اس نے اﷲ تعالی کی تعریف کی اور نہ ہی درود بھیجا رسول اکرم ﷺپر رسول اکرم ﷺنے فرمایا اس نے جلدی کی پھر اس کو بلایا اور اسی سے کہا یا اور کسی سے کہا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرے اور اس کی تعریف کرے پھر درود پڑھے نبی اکرم ﷺپر بعد اس کے جو چاہے دعا مانگے ۔
معلوم ہوا کہ پہلے اﷲ کی بڑائی ( یعنی التحیات)کرنی ہے پھر نبی اکرم ﷺپر درود پڑھنا ہے اور اس کے بعد اﷲ سے جو چاہے دعا مانگے۔درود اور دعاؤں کی تفصیل آگے آرہی ہے۔(انشاء اﷲ)
محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺکے چند اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی اکرم ﷺکی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہنے کہا کہ مجھے نبی اکرم ﷺکی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ جب آپ ﷺتکبیر کہتے تو اپنے ہاتھو ں کو کندھوں تک لے جاتے جب آپ ﷺرکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑتے اور پیٹھ کو جھکالیتے۔پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہوجاتے جب آپ ﷺسجدہ کرتے تو کرتے توآپ اپنے ہاتھوں کو اس طرح نہ رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے٫ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے جب آپ ﷺدو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو آگے کولیتے اور دائیں کو کھڑا کردیتے پھر مقعد پر بیٹھتے۔
بقیہ کیفیت کیلئے صفحہ ٣١ سے ٤٠ تک دیکھئے پھر اس کے بعد سلام پھیردیں اور اگر تین رکعتی یا چار رکعتی نماز ہو تو کھڑے ہوجائیں سلام پھیرنے کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
ابو قلابہ نے بیان کیا کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری مسجد میں نماز پڑھائی آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھارہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی کی نہیں ہے بلکہ میں تم کو صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺکس طرح نمازپڑھا کرتے تھے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے ابو قلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اﷲ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح ٫ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے اٹھتےتو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے۔
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا آنحضرت ﷺجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے (سجدہ کیلئے)جھکتے پھر جب سر اٹھاتے تو اﷲ اکبر کہتے ۔پھر جب سجدہ کے لئے جھکتے تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے اسی طرح آپ ﷺتمام نماز پوری کرلیتے تھے قعدہ اولی (دورکعات) سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺدونوں ہاتھ اٹھاتے تھے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے اسی طرح مونڈھوں تک ہاتھ اٹھاتے۔ ہاتھ کہاں اٹھائے جائیں اس کی تفصیل کے لئے صفحہ : ٣ ٫ ٤ اور ٥ دیکھئے۔
تیسری رکعت دوسری رکعت کی طرح ادا کرنا
١۔ قال سمعت ابا حمید الساعدی فی عشرة من اصحاب رسول اﷲ ۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم یصنع ذلک فی بقےة صلا تہ۔۔۔۔۔۔ الخ ۔(دیکھئے صفحہ : ٢٤٢٣ حدیث ابو حمید ساعد ی رضی اﷲ عنہ)(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣١٥ ٣١٦٫حدیث : ٧٢٥ ٫ باب افتتاح الصلوة۔)
ابو حمید ساعد ی رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ وہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔(رسو ل اﷲ ۖ) پھر باقی نماز میں ایسا ہی کرتے ۔۔۔۔۔۔ الخ ۔
٢۔ حدثنا مسدد قال حدثنا یحیی بن سعید عن عبیداﷲ قال حدثنی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ھریرة ان النبیﷺفرد علیہ النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل فصلی ثم جاء فسلم علی النبی ﷺفقال ارجع فصل فانک لم تصل ثلاثا فقال والذی بعثک بالحق فما احسن غیرہ فعلمنی قال اذا قمت الصلوة فکبر ثم اقراء ما تیسر معک من القرآن ثم ارکع حتی تطمئن راکعا ثم ارضع حتی تعتدل قائما ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم رفع حتی تطمئن جالسا ثم السجد حتی تطمئن ساجدا ثم افعل ذلک فی صلا تک کلھا۔ (صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٥ ٫ حدیث : ٧٩٣ ٫ باب امر النبی ﷺالذی لایتم رکوعة بالاعادة ۔)
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کو نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا نماز کے بعد اس نے آکر نبی اکرم ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے جواب دیکر فرمایا دوبارہ جاکر نماز پڑھ تونے نماز نہیں پڑھی چنانچہ اس نے دوبا رہ نماز پڑھی اور واپس آکر پھر آپ ﷺکو سلام کیا آپ ﷺنے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تونے نماز نہیں پڑھی تین بار اسی طرح ہوا آخر اس شخص نے کہاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ ﷺمجھے سکھلائیے ٫ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے جو تجھ سے آسا ن ہوسکے پڑھ اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہوجا پھر جب توسجدہ کرے تو پوری طرح سجدے میں چلا جا پھر سر اٹھا کر پوری طرح بیٹھ جا ٫ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر یہی طریقہ نماز کی تمام (رکعات)میں اختیار کر۔سورہ فاتحہ اور کوئی اور سورة پڑھنا
١۔ حدثنا وھب بن بقےة عن خالد عن محمد یعنی ابن عمرو عن علی بن یحیی بن خلاد عن ابیہ عن رفاعة بن رافع بھذہ القصےة قال اذا اقمت فتوجھت الی القبلة فکبر ثم اقراء بام القرآن و بماشاء اﷲ ان تقرأ و اذا رکعت فضع راحتیک علی رکبتیک وامدد ظھرک وقال اذا سجدت فمکن بسجودک فاذا رفعت فاقعد علی فخدک الیسری۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣٦٤٫حدیث : ٨٥٠ )
رفاعہ بن رافع رضی اﷲ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے ٫ اس میں یہ ہے کہ جب تو کھڑا ہو اور منہ کرلے قبلہ کی طرف ٫ تکبیر کہہ اور سورہ فاتحہ پڑھ اور جو اﷲ چاہے قرآن میں سے پڑھ جب تو رکوع کرے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ اور اپنی پیٹھ کو پھیلا اور برابر رکھ اور جب سجدہ کرے تو ٹہر جا اپنے سجدہ میں جب سر اٹھائے تو بیٹھ اپنی بائیں ران پر۔
٢۔ حدثنا الحسن بن علی نا ھشام بن عبدالملک والحجاج بن منھال قالانا ھمام نا اسحق بن عبداﷲ بن ابی طلحة عن علی بن یحیی بن خلاد عن ابیہ کن عمہ رفاعة بن رافع بمعناء قال فقال رسول اﷲﷺانھا لا تتم الصلوة احدکم حتی یسبغ الوضوء کما امرہ اﷲ تعالی فیغسل وجھہ ویدیہ الی المرفقین ولمسح براسہ ورجلیہ الی الکعبین ثم یکبر اﷲ عزوجل ویحمدہ ثم یقرا من القرآن ما اذن لہ فیہ و تیسرا فذکر نحو حدیث حماد قال ثم یکبر فیسجد فیمکن وجھہ قال ھمام و ربما قال جبھتہ من الارض حتی تطمئن مفاصلہ وتسترخی ثم یکبر فیستوی قاعدا علی مقعدہ ویقیم صلبہ فوصف الصلوة ھکذا اربع رکعات حتی فرع لا یتم صلوة احدکم حتی یفعل ذلک۔ (ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣٦٤٣٦٣٫حدیث : ٨٤٩ )
حضرت رفاعہرضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ۖنے فرمایا تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک وضو پورا نہ کرے جیسا اﷲ جل جلالہ نے اس کو حکم کیا پھر دھوئے منہ اپنا اور ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کرے سر کا اور(دھوئے )دونوںپاؤںاپنے ٹخنوںتک پھر تکبیر کہے اﷲ جل جلالہ کی اور تعریف کرے اسکی پھر جہاں تک ہوسکے قرآن پڑھے ٫پھر ویسا ہی بیان کیا بعد اسکے کہا پھر تکبیر اور سجدہ کرے تو اپنا منہ زمین پر یا پیشانی زمین پر لگادے اطمینان سے یہاں تک کہ جوڑ آرام پائیں اور ڈھیلے ہوجائیں ٫پھر تکبیرکہے اور سیدھا بیٹھے اپنی بیٹھک پر اور پیٹھ کو سیدھا کرے اسی طرح نماز کو بیان کیا چاروںرکعات کو فارغ ہونے تک نہیں تمام ہوئی نماز تم میں سے کسی کی جب تک ایسا نہ کرے۔تیسری رکعت سے اٹھنے کے بعدتھوڑی دیر بیٹھ کر پھر کھڑے ہونا(یعنی جلسہ استراحت)
حدثنامحمد بن الصباح قال اخبرنا ھیشم اخبرنا خالد الحذاء عن ابی قلابة قال: اخبرنا مالک بن الحویرث اللیثی انہ رای النبیﷺیصلی ٫ فاذا کان فی وتر من صلا تہ لم ینھض حتی یستوی قاعداً ۔ (صحیح بخاری ٫جلد : ٢ ٫ صفحہ : ٢٦٢٥ ٫ حدیث : ٨٢٣ ٫ باب من استوی قاعداً فی وتر من صلا تہ ثم نھض ۔)
مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے نبی اکرم ﷺکو نماز پڑھتے دیکھا آپ ﷺجب طاق رکعت میں ہوتے اس وقت نہ اٹھتے جب تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔
حدثنا یحیی بن بکیر قال حدثنا اللیث عن خالد عن سعید عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء ح قال وحدثنی اللیث عن یزید بن ابی حبیب ویزید بن محمد عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء انہ کان جالسا مع نفر من اصحاب النبیﷺفذکرنا صلاة النبیﷺفقال ابوحمید الساعدی انا کنت احفظکم لصلاة رسول اﷲﷺرایتہ اذا کبر جعل یدیہ حذاء منکبیہ واذا رکع امکن یدیہ من رکبتیہ ثم ھصر ظھرہ فاذا رفع راسیہ استوی حتی یعود کل فقار مکانہ فاذا سجد وضع یدیہ غیرمفترش ولا قابضھما و استقبل با طراف اصابع رجلیہ القبلة فاذا جلس فی الرکعتین جلس علی رجلہ الیسری ونصب الیمنی واذا جلس فی الرکعة الاخرة قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علی مقعدة۔ ( صحیح بخاری ٫ جلد : ٢ ٫ صفحہ : ٢٩٢٨ ٫ حدیث : ٨٢٨ ٫ باب سنة الجلوس فی التشھد۔)
محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺکے چند اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی اکرم ﷺکی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابو حمید ساعدی رضی اﷲ عنہنے کہا کہ مجھے نبی اکرم ﷺکی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ جب آپ ﷺتکبیر کہتے تو اپنے ہاتھو ں کو کندھوں تک لے جاتے جب آپ ﷺرکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑتے اور پیٹھ کو جھکالیتے۔پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہوجاتے جب آپ ﷺسجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو اس طرح نہ رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے٫ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے جب آپ ﷺدو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے توسو ل اﷲ ۖ) بائیں پاؤں کو آگے کولیتے اور دائیں کو کھڑا کردیتے پھر مقعد پر بیٹھتے۔
حضرت رفاعہرضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ۖنے فرمایا تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک وضو پورا نہ کرے جیسا اﷲ جل جلالہ نے اس کو حکم کیا پھر دھوئے منہ اپنا اور ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کرے سر کا اور(دھوئے )دونوںپاؤںاپنے ٹخنوںتک پھر تکبیر کہے اﷲ جل جلالہ کی اور تعریف کرے اسکی پھر جہاں تک ہوسکے قرآن پڑھے ٫پھر ویسا ہی بیان کیا بعد اسکے کہا پھر تکبیر اور سجدہ کرے تو اپنا منہ زمین پر یا پیشانی زمین پر لگادے اطمینان سے یہاں تک کہ جوڑ آرام پائیں اور ڈھیلے ہوجائیں ٫پھر تکبیرکہے اور سیدھا بیٹھے اپنی بیٹھک پر اور پیٹھ کو سیدھا کرے اسی طرح نماز کو بیان کیا چاروںرکعات کو فارغ ہونے تک نہیں تمام ہوئی نماز تم میں سے کسی کی جب تک ایسا نہ کرے۔
ابو حمید ساعد ی رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ وہ دس صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔(رجب اخیر سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہوتا ہے نکالتے بایاں پاؤں اپنا اور بیٹھتے بائیں کولہے پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔
ہاتھوں کی انگلیوں کی کیفیت کیلئے دیکھئے صفحہ : ٣٤ سے٣٨ تک۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم نبی اکرم ﷺکے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے سلام ہو جبریل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں پر فلاں پر نبی اکرم ﷺایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اﷲتو خود سلام ہے اس لئے جب تم نماز پڑھو تو یہ کہو (التحیات ﷲ والصلوت واطیبات السلام علیک ایھاالنبی ورحمة اﷲ وبرکاتہ السلام علینا و علی عباد اﷲ الصالحین ) جب تم یہ کہوگے تو تمھارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اﷲ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ کعب بن عجرہ رضی اﷲ عنہسے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کیوں نہ میں تمہیں (حدیث کا) ایک تحفہ پہنچادوں جو میں نے رسول اکرم ﷺسے سنا تھا میں نے عرض کی جی ہاں مجھے یہ تحفہ ضرور عنایت فرمائیںانہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺہم نے پوچھا تھا یا رسول اﷲ ﷺہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں اﷲ تعالی نے ہمیں سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں خود ہی سکھادیا ہے حضور ﷺنے فرمایا (یوں) کہا کرو ((اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللّٰھم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید))
ابو ھریرہ رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا جب تم میں سے کوئی اخیر تشھد پڑھ چکے تو چار چیزوں سے پناہ مانگے جہنم کے عذاب سے قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے عذاب سے اوردجال کی برائی سے۔
عن عائشة زوج النبیﷺ ان النبیﷺکان یدعوفی الصلوة (اللّٰھم انی اعوذبک من عذاب القبر و اعوذبک من فتنة المسیح الدجال و اعوذبک من الماثم والمغرم) قالت فقال لہ قائل ما اکثر ما تستعیذ من المغرم یا رسول اﷲ فقال ان الرجل اذ اغرم حدث فکذب ووعدفا خلف۔( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ١٤٧ )
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنماز میں یہ دعا مانگتے(اللّٰھم انی اعوذبک من عذاب القبر و اعوذبک من فتنة المسیح الدجال و اعوذبک من الماثم والمغرم) ایک شخص بولا یا رسول اﷲﷺآپ اکثر قرض داری سے کیوں پناہ مانگتے ہیں آپ ﷺنے فرمایاجب آدمی قرض دارہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو چاہے دعا مانگیں کیونکہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : (۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم یتخیر من الدعاء اعجبہ الیہ فیدعو۔)( صحیح بخاری ٫ جلد : ٢ ٫ صفحہ : ٣٣ ٫ حدیث : ٨٣٤ ٫ باب ما یتخیر من الدعاء بعد التشھد ولیس بواجب)
۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اختیار ہے اسے جو دعا پسند ہو کرے۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اﷲ ﷺکو دیکھا آپ ﷺتکبیر کہتے تھے جھکتے اور اٹھتے اور کھڑے ہوتے اور بیٹھتے اور سلام پھیرتے تھے داہنی اور بائیں طرف کہتے تھے (السلام علیکم ورحمة اﷲ السلام علیکم ورحمة اﷲ) یہاں تک کہ آپ ۖکے رخسار کی سفیدی دکھلائی دیتی اور میں نے ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنھما کو بھی ایسا کرتے دیکھا۔
عن جابر بن سمرة قال صلیت مع رسول اﷲﷺفکنا اذا سلمنا قلنا بایدنا السلام علیکم السلام علیکم فنظرنا الینا رسول اﷲﷺالسلام علیکم فقال ماشانکم نشرون بایدکم کانھا اذناب خیل شمس اذا سلم احدکم فلیلتفت الی صاحبہ ولا یوحی بیدہ۔ ( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ٥١ ٫ باب الامر بالسکون فی الصلوة وانھی عن الاشارة بالید ورفعھما عند السلام واتمام الصفوف الاول والتراص فیھا الامر با لاجتماع۔ )
حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ رسول اﷲ ﷺکے ساتھ نماز پڑھتے تو ختم نماز پر السلام علیکم ورحمة اﷲکہتے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے یہ دیکھ کر رسول اﷲ ﷺنے فرمایا تمھیں کیا ہوگیا ہے تم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوگویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں تم میں سے جب کوئی نماز ختم کرے تو اپنے بھائی کی جانب منہ کرکے صرف زبان سے السلام علیکم ورحمة اﷲ کہے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔
عن ابی ھریرة قال کان رسول اﷲﷺیعلمنا یقول لا تبادر الامام اذا کبر واذا قال ولاالضالین فقولوا امین واذا رکع فا رکعوا واذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ فقولوا اللّٰھم ربنا لک الحمد۔( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ٣٦ ٫ باب ائتمام الماموم بلامام۔ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہسے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺہم کو تعلیم دیتے اور فرماتے تھے امام سے پہلے کوئی کام نہ کرنا وہ جب تکبیر کہے اس وقت تکبیر کہنا اور جب وہ ولاالضالین کہے تو تم آمین کہو وہ جب رکو ع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور وہ جب سمع اﷲ لمن حمدہ کہے تم اللّٰھم ربنا لک الحمد کہو۔
حدثنا فتیبة بن سعید قال حدثنا لیث عن ابن شھاب عن انس بن مالک انہ قال خر رسول اﷲﷺعن فرس فجحش فصلی لنا قاعدا فصلینا معہ قعودا ثم انصرف فقال انما جعل الامام او انما الامام لیئوتم بہ فاذا کبر فکبر و اذا رکع فارکعوا واذا رفع فا رفعوا و اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ فقولوا ربنا لک الحمد واذا سجد فاسجدوا۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٦٧ ٫ حدیث : ٧٣٣ ٫ باب ایجاب التکبیر و افتتاح الصلاة۔)
حضرت انس رضی اﷲ عنہکا بیان ہے کہ رسول اﷲ ﷺگھوڑے سے گرگئے اور آپ ﷺزخمی ہوگئے اس لئے آپ ﷺنے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ ﷺکی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھی پھرنماز پڑھ کر آپ ﷺنے فرمایا کہ امام اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اﷲ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمدکہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔
یہی حدیث ایک اور سند سے (بخاری میں اسی صفحہ پر جس کا حوالہ اوپر گزرا ہے۔)جس میں الفاظ بھی موجود ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فاذا صلی قائم فصلوا قیاماً۔۔۔۔۔۔الخ۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٦٧ ٫ حدیث : ٧٣٢ ٫ باب ایجاب التکبیر و افتتاح الصلاة۔)
جب وہ (امام) کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر پڑھو۔اسی طرح ایک اور سند سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واذا صلی جالسا فصلوا جلوس اجمعون(انتھی)( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٦٨ ٫ حدیث : ٧٣٤ ٫ باب ایجاب التکبیر و افتتاح الصلاة۔)
اور جب وہ (امام ) بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ (الغرض مقتدی کو ہر عمل میں امام کی اقتداء لازمی ہے۔)
اسی طرح امام جب رکوع یا سجدہ میں پہنچ جائے تب مقتدی وہ رکن ادا کریگا
عن حطان بن عبداﷲ الرقاشی قال صلیت مع ابی موسی الاشعری صلوة فلما کان عندالقعدة قال رجل من القوم اقرت الصلوة بالبر والزکوة قال فلما قضی ابوموسی الصلوة وسلم انصرف فقال ایکم قائل کلمة کذا وکذا قال فارم القوم فقال لعلک یا حطان قلتھا قال ما قلتھا ولقد رھبت ان تبکعنی بھا فقال رجل من القوم انا قلتھا ولم ارد بھا الاالخیر فقال ابو موسی اما تعلمون کیف تقولون فی صلوتکم ان رسول اﷲﷺخطبنا فبین لنا سنتنا وعلمنا صلوتنا فقال اذا صلیتم فاقیمواصفوفکم ثم لیؤمکم احدکم فاذا کبر فکبر وا واذقال غیر المغضوب علیھم ولاالضالین فقولوا آمین یحببکم اﷲ فاذا کبر رکع فکبر وا ورکعوا فان الامام یرکع قبلکم ویرفع قبلکم فقال رسول اﷲﷺفتلک بتلک و اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ فقولوا اللّٰھم ربنا ولک الحمد یسمع اﷲ لکم فان اﷲ تعالیٰ قال علی لسان نبیہﷺسمع اﷲ لمن حمدہ واذا کبر و سجد فکبر وا واسجدو ا فان الامام یسجد قبلکم و یرفع قبلکم فقال رسول اﷲﷺفتلک بتلک واذا کان عند القعد ة فلیکن من اول قول احدکم ((التحیات اطیبات الصلوة ﷲ السلام علیک ایھاالنبی ورحمة اﷲ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباداﷲ الصالحین اشھد ان لا الہ الااﷲ واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ)) ( مسلم ٫ جلد : ١٢ ٫ صفحہ : ٣١٣٠ ٫ باب التشھد فی الصلوة۔ )
حطان بن عبداﷲ رقاشی کا بیان ہے کہ میں ابو موسی اشعری رضی اﷲ عنہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا جب ہم لوگ تشھد میں بیٹھے تھے توپیچھے سے کسی آدمی نے کہا ٫ نماز نیکی اور زکوة کے ساتھ فرض کی گئی ہے ۔ ابو موسی اشعری رضی اﷲ عنہنے بعد نماز کے پوچھا یہ بات تم میں سے کس نے کہی ہے سب لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھرکہا تم لوگ سن رہے ہو بتاؤ کہ تم میں سے یہ بات کس نے کہی جب سب لوگ خاموش رہے تو آپ نے مجھ سے کہا اے حطان شاید یہ کلمات تونے کہے ہیںمیں نے عرض کیا جی نہیں میں نے نہیں کہے ٫ مجھے تو یہ خوف تھا کہ کہیں آپ خفا نہ ہوجائیں اتنے میں ایک شخص نے کہا یہ کلمات میں نے کہے ہیں اور اس میں میری نیت بھلائی اور نیکی کی تھی۔ ابو موسیاشعری رضی اﷲ عنہنے جواب میں کہا کہ تم لوگ نہیں جانتے کہ تم کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہئے حالانکہ رسول اکرم ﷺنے ہم کو بدوران خطبہ تمام امور بتائے اور نماز پڑھنا سکھائی ہے وہ اس طرح کہ تم لوگ نماز پڑھنے سے پہلے صفیں سیدھی کرلو۔ پھر تم میں سے کوئی امام بنے اور جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبر کہو ٫ اور وہ جب ولاالضالین کہے تو تم آمین کہو تا کہ اﷲ تم سے خوش رہے ۔ امام کی تکبیر ورکوع کے ساتھ تم بھی تکبیرکہو اور رکوع کرو٫ امام کی تکبیرو رکوع کے بعد تم تکبیر و رکوع ادا کرو اور امام سے پہلے تکبیر و رکوع ادا نہ کروکیونکہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا تمھارا ایک لمحہ تاخیر کرنا امام کے رکوع و تکبیرات کے برابرہی شمار کیا جاتا ہے پھر جب امام سمع اﷲ لمن حمدہ کہے تم اللّٰھم ربنا لک الحمد کہو اور اﷲ تعالی تمھاری دعاؤں کو سنتا ہے کیونکہ اﷲ تعالی نے اپنے رسول ﷺکی زبانی کہا ہے کہ جو کوئی اﷲ کی تعریف وتوصیف کرتا ہے ۔تو اﷲ اس کو سنتا ہے امام جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر اور سجدہ کرو کیونکہ تم سے ایک لمحہ پہلے امام تکبیر کہتا اور سجدہ ورفع کرتا ہے اور تم ایک لمحہ بعد یہ اعمال کرو تو تم اس کے ساتھ ر ہوگے اور جب امام تشھد میں بیٹھے تو تم میں ہر ایک دعا پڑھے ٫ ((التحیات اطیبات الصلوة ﷲ السلام علیک ایھاالنبی ورحمة اﷲ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباداﷲ الصالحین اشھد ان لا الہ الااﷲ واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ))۔
حدثنا آدم قال حدثنا اسرائیل عن ابی اسحق عن عبدالرحمن بن یزید قال حدثنا البراء بن عاذب وھو غیر کذوب قال کنا نصلی خلف النبیﷺفاذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ لم یحن احد منا ظھرہ حتی یضع النبیﷺحبھتہ علی الارض۔ ( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٣٦ ٫ حدیث : ٨١١ ٫ باب السجود علی سبعة اعظم ۔)
حضرت براء بن عاذب رضی اﷲ عنہنے بیان کیا وہ جھوٹ نہیں بول سکتے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے جب آپ ﷺ سمع اﷲ لمن حمدہکہتے تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک نہ اپنی پیٹھ جھکاتا جب تک آپ ﷺاپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔
مقتدی بلند آواز سے قرأت نہیں کریگا سری نماز ہو یا جہری
عن عمران بن حصین قال صلی بنا رسول اﷲﷺصلاة الظھر او العصر فقال ایکم قرأ خلفی سبح اسم ربک الاعلی فقال رجل انا ولم ارد بھا الاالخیر قال قد علمت ان بعضکم خالجینھا۔ ( مسلم ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٢٥ ٫ باب نھی الماموم عن جھرہ بالقرأة خلف امامہ ۔ ) عمران بن حصین رضی اﷲ عنہکا بیان ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی بعد ختم نماز آپ ﷺنے فرمایا تم میں سے کس مقتدی نے سورہ سبح اسم ربک الاعلیپڑھی تو ایک مقتدی نے عرض کیا یا رسول اﷲ ۖبغرض حصول ثواب میں نے پڑھی تھی آپ ﷺنے فرمایا مجھے معلوم ہوا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے قرآن کریم چھین رہا ہے۔
جب امام جھراً قرأت کرے تو مقتدی سوائے سورة فاتحہ کہ کچھ نہ پڑھے
١۔ حدثنا علی بن عبداﷲ قال حدثنا سفیان قال حدثنا الزھری عن محمود بن الربیع عن عبادة بن الصامت ان رسول اﷲﷺقال لا صلا ة لمن لم یقرا بفاتحة الکتاب۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٦٩٠ ٫ حدیث : ٧٥٦ ٫ باب وجوب اقرأة للامام والماموم فی الصلوات کلھا فی الحضر والسفر وما یجھر فیھا وما یخافت ۔)
حضرت عبادہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس شخص نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
٢۔ حدثنا عبداﷲ بن محمد النفیلی نا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحق عن مکحول عن محمود بن الربیع عن عبادہ بن الصابت قال کنا خلف رسول اﷲ ﷺفی الصلوة الفجر فقرأ رسول اﷲﷺفثقلت علیہ القرأة فلما فرغ لعلکم تقرؤن خلف امامکم قلنا نعم ھذا یا رسول اﷲﷺقال لا تفعلوا الابفاتحة الکتاب فانہ لا صلوة لمن لم یقرأ بھا۔(ابوداؤد ٫جلد :١ ٫ صفحہ : ٣٦٨٫حدیث : ٨١٤ ٫ باب من ترک القرأة فی صلوتہ ۔)
عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ ہم رسول اﷲ ﷺکے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے فجر کی رسول اﷲ ﷺنے قرأت کی لیکن آپ ﷺپر قرآن پڑھنا شاق ہوا جب نماز سے فارغ ہوئے تو رسول اﷲ ﷺنے فرمایا شاید تم پڑھا کرتے ہو اپنے امام کے پیچھے ہم نے کہا ہاں یارسول اﷲ ﷺایسا ہی ہے آپ ﷺنے فرمایا مت پڑھا کرو سوائے سور ہ فاتحہ کے کیونکہ بغیر سورہ فاتحہ کے نماز نہیں ہوتی۔
سری نماز میں امام کے پیچھے فاتحہ کے علاوہ بھی قرأت ہے
١۔ عن عطاء قال قال ابو ھریرة فی کل الصلوة یقراء فما اسمعنا رسول اﷲﷺ اسمعناکم وما اخفیمنااخفیناہ منکم فقال لہ رجل ارایت ان لم ازد علی ام القرآن فقال ان زدت علیھا فھواخیرو ان انتھیت الیھا اجرت عنک۔ ( مسلم ٫ جلد : ٢ ٫ صفحہ : ٢٣ ٫ باب وجوب القرأة الفاتحة فی کل رکعة وانہ اذا لم یحسن
الفاتحة ولا ولا امکنہ تعلمھا قرأ ما تیسر لہ غیرھا۔)
عطاء نے ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کا قول بیان کیا کہ نماز کی ہر رکعت میں قرأت کرنی چاہئے۔ رسول اکرم ﷺنے جس نماز میں ہم کو قرأت سنائی ویسی ہم نے تم کو سنادی اور جو نماز رسول اکرم ﷺنے غیر جہری پڑھی ویسی ہی ہم نے تم کو پڑھ کر بتادی جس پر ایک آدمی نے کہا کہ اگر میں سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ اور نہ پڑھوں تو کیا حرج ہے ؟ ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا کہ سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی مزید آیات پڑھو تو یہ تمھارے لئے بہتر ہے اور اگر سورہ فاتحہ پڑھو تو وہ بھی کافی ہے۔
٢۔ قال حدثنا محمود قال حدثنا محمد بن اسمعیل بن ابراھیم بن المغیرة الجعفی البخاری قال حدثنا عثمان بن سعید سمع عبیداﷲ بن عمرو و عن اسحق بن راشد عن الزھری عن عبیداﷲ بن ابی رافع مولی بنی ھاشم حدثہ عن علی بن ابی طالب اذا لم یجھرالامام فی الصلوة فا قرأ بام الکتاب وسورة اخری فی الاولیین من الظھر والعصر وبفاتحة الکتاب فی الاخریین من الظھر والعصر و فی الاخرة من المغرب وفی الاخریین من العشائ۔ ( جزء القرأة البخاری ٫ حدیث : ١ ٫ صفحہ : ٢٠١٩ )
حضرت علی رضی اﷲ عنہنے فرمایا کہ جب امام نمازوں میں جہر نہ کرے تو سورہ فاتحہ اور (اس کے علاوہ ) سورہ بھی پڑھ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ٫ اور مغرب کی آخری رکعت میں اور عشاء کی پچھلی رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھا کر۔
امام جب جہری نماز میں قرأت کرے تو آمین جہری کہے اور مقتدی بھی جہراً کہے
وقال عطاء آمین دعاء امن ابن الزبیر و من وراء ہ حتی ان للمسجد للجة وکان ابو ھریرة ینادی الامام لا تفتنی بامین وقال نافع کان ابن عمر لا یدعو و یحضھم و سمعت منہ فی ذلک خیراً۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧١٠ ٫ باب جھرالامام بالتامین ۔)
عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ آمین ایک دعا ہے اور عبد اﷲ بن زبیررضی اﷲ عنہ اور ان لوگوں نے جو آپ کے پیچھے( نماز پڑرہے تھے)اس زور سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ امام سے کہہ دیا کرتے تھے کہ آمین سے ہمیں محروم نہ رکھنا اور نافع نے کہا کہ ابن عمر آمین کبھی نہیں چھوڑتے تھے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے تھے میں نے آپ سے اس کے متعلق حدیث بھی سنی تھی۔اخبرنا محمد بن عبداﷲ عن عبدالحکم عن شعیب حدثنا لیث حدثنا خالد عن ابی ھلال عن نعیم المجمر قال صلیت ورآء اب ھریرة فقرأ بسم اﷲالرحمن الرحیم ثم قرا با م القرآن حتی اذا بلغ غیرالمغضوب علیھم ولاالضالین فقال آمین فقال الناس آمین ویقول کلما سجداﷲ اکبر واذا قام من الجلوس فی الا شنیتن قال اﷲاکبر راذا سلم قال و الذی نفسی بیدہ انی لا شبھکم صلوةبرسول اﷲ ۖ۔ (نسائی ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٣٤٠ ٫ حدیث : ٩٠٨ ٫ باب القرأة بسم اﷲالرحمن الرحیم۔)
نعیم مجمر سے روایت ہے میں ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کے پیچھے نماز پڑ ھ رہا تھا انہوں نے بسم اﷲالرحمن الرحیم پڑھی پھر سورہ فاتحہ پڑھی جب غیرالمغضوب علیھم ولاالضالین پر پہنچے تو انہوں نے آمین کہی اور لوگوں نے بھی آمین کہی اوروہ جب سجدہ
کرتے تو اﷲاکبر کہتے اور دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اﷲ اکبر کہتے پھر جب سلام پھیرا تو کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
میں تم سے زیادہ مشابہ ہوں نماز میں رسول اﷲ ﷺکی ۔
امام آمین کہہ لے تب مقتدی آمین کہیں اور آمین کی فضیلت
حدثنا عبداﷲ بن یوسف قال اخبرنا مالک عن ابن شھاب عن سعید بن المسیب و ابی سلمة بن عبدالرحمن انھما اخبراہ عن ابی ھریرة ان رسول اﷲﷺقال اذا امن الامام فامنوا فانہ من وافق تامینہ تامین الملا ئکة عفرلہ ما تقدم من ذنبہ قال ابن شھاب وکان رسول اﷲﷺیقول آمین۔ ( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧١٠ ٫ حدیث : ٧٨٠ ٫ باب جھرالامام بالتامین ۔)
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہنے بیان کیا کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ ہوگی اس کے تمام کناہ معاف کردیئے جائینگے۔ابن شہابٰٰٰ نے بیان کیا کہ رسول اﷲ ﷺآمین کہتے تھے۔
امام جب سمع اﷲ لمن حمدہ کہے تو مقتدی سمع اﷲ لمن حمدہ نہیں بلکہ ربنا و لک الحمدکہے
حدثنا عبداﷲ بن یوسف قال اخبرنا مالک عن سمی عن ابی صالح عن ابی ھریرة ر ضی اﷲ عنہ انرسول اﷲﷺ قال اذا قال الامام سمع اﷲ لمن حمدہ فقولوا اللّٰھم ربنا و لک الحمد فانہ من وافق قولہ قول الملا ئکة غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔( صحیح بخاری ٫ جلد : ١ ٫ صفحہ : ٧٢٧٧٢٦ ٫ حدیث : ٧٩٦ ٫ باب فضل اللّٰھم ربنا و لک الحمد ۔)
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہکا بیان ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا کہ جب امامسمع اﷲ لمن حمدہ کہے توتم اللّٰھم ربنا و لک الحمد کہو کیوں کہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہوگا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
Saifullah Muhammadi






/ 26